حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 194
حیات احمد ۱۹۴ جلد پنجم حصہ دوم کرنے کی ضرورت نہیں کہ اس نے یہ اعلان کیوں شائع کیا ؟ مگر ہاں ہم یہ ضرور کہتے ہیں کہ اس اشتہار کا عنوان جو پیسہ اخبار نے ہر فرعونے را موسیٰ تجویز کیا ہے۔یہ ضرور اس کے بخبث باطن کی دلیل ہے اور اس ملاً یا نہ عناد اور ضد کو ظاہر کرتا ہے جو اسے حضرت مسیح موعود سے ہے گویا پیسہ اخبار کا مسلمان ایڈیٹر اس عنوان میں فضل حق کو موسیٰ قرار دیتا ہے حالانکہ نہ فضل حق کا یہ دعویٰ ہے اور نہ اس موسویت کا ثبوت؟ کوئی ثبوت پیسہ اخبار کے پاس؟ پھر مسلمان کہلا کر ایسی بیہودہ حرکت کر ناعَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُون کی شان سے دور ہونا نہیں تو کیا ہے؟ أحمد پیسہ اخبار جو اپنی گزشتہ اشاعت میں عیسائیوں کے لاہوری ماہواری رسالہ پر اعلیٰ درجہ کا تعریفی ریمارک کرتا ہے اور یوں اپنی اسلامی غیرت کا ثبوت دیتا ہے اسلام سے جس قدر واقف ہے ہمیں اس کا خوب علم ہے اور ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی تصنیفات اس نے نہیں پڑھی ہیں پھر یہ کیسی بے حیائی ہے کہ دریدہ دہن ہو کر وہ حضرت مسیح موعود کے دعاوی پر لکھنے کے لئے قلم اٹھاتا ہے بحالیکہ وہ مسلمان کہلاتا ہے اور قرآن شریف اسے ہدایت کرتا ہے لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ پھر خدا تعالیٰ کے ایک مامور ومرسل کو فرعون کہنے کی جرات کرنا ایک مسلمان ، خدا ترس مسلمان ، عاقبت اندیش مسلمان کی شان سے ضرور بعید ہے گو پیسہ اخبار کے ایڈیٹر کے نزدیک ایک معمولی بات ہے۔ہمیں زیادہ تر افسوس اس بات پر ہے کہ پیسہ اخبار کا ایڈیٹر جو ہندوؤں سے ربط ضبط بڑھانے کے لئے کانگریس کی تائید بھی ضرور تا کر دیا کرتا ہے اپنے فرض منصبی کے لحاظ سے بھی اس الزام کو دور نہیں کر سکتا کہ وہ حضرت مسیح موعود کے خلاف مضامین شائع کرنے کی تو دلیری کرتا ہے لیکن جب اس کی تردید اس کے پاس بھیجی جاوے تو وہ اسے ہرگز نہیں چھاپتا اور ہمیں بار ہا اس کا تجربہ ہوا ہے۔خود ہم نے اور ہمارے احباب نے پیسہ اخبار کی اس قسم کی بیہودگیوں پر اسے بیدار کرنے والے مضامین لکھے ہیں جو اس نے شائع نہیں کئے اور مجبوراًدوسرے اخبارات میں انہیں شائع کرانا پڑا۔حالانکہ ایک آزاد اخبار نویس کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ کبھی بھی اپنی رائے کی بنی اسرائیل :۳۷