حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 190
حیات احمد ١٩٠ جلد پنجم حصہ دوم ماہواری مقرر کر دے خواہ ایک پیسہ ہو اور خواہ ایک دھیلہ۔اور جو شخص کچھ بھی مقرر نہیں کرتا اور نہ جسمانی طور پر اس سلسلہ کے لئے کچھ بھی مدد دے سکتا ہے وہ منافق ہے۔اب اس کے بعد وہ سلسلہ میں رہ نہیں سکے گا۔اس اشتہار کے شائع ہونے سے تین ماہ تک ہر ایک بیعت کرنے والے کے جواب کا انتظار کیا جائے گا کہ وہ کیا کچھ ماہواری چندہ اس سلسلہ کی مدد کے لئے قبول کرتا ہے اور اگر تین ماہ تک کسی کا جواب نہ آیا تو سلسلہ بیعت سے اُس کا نام کاٹ دیا جائے گا اور مشتہر کر دیا جائے گا۔اگر کسی نے ماہواری چندہ کا عہد کر کے تین ماہ تک چندہ کے بھیجنے سے لا پرواہی کی اس کا نام بھی کاٹ دیا جائے گا۔اور اس کے بعد کوئی مغرور اور لا پر وا جو انصار میں داخل نہیں اس سلسلہ میں ہرگز نہیں رہے گا۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى griks میرزاغلام احمد مسیح موعود از قادیان ضلع گورداسپور۔۵/ مارچ ۱۹۰۲ء یادر ہے کہ مدرسہ کا قیام اور بقا بھی چونکہ بہت سے مصالح پر مبنی ہے لہذا از بس ضروری ہے کہ حسب استطاعت ہر شخص اس کے لئے بھی ایک ماہوار رقم اپنے اوپر لازم کرلے۔اور یہ بات میں پھر دوبارہ یاد دلا دیتا ہوں کہ ہر شخص اپنی حالت اور استطاعت کو دیکھ کر چندہ مقرر کرے۔ایسا نہ ہو کہ تھوڑی دیر کے بعد اسے فوق الطاقت بوجھ سمجھ کر ملول ہو جائے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ گنہگار ٹھہرے گا اور اس تجدید اور تعیین چندہ کی سب درخواستیں اخویم مولوی عبد الکریم صاحب کے پاس آنی چاہئیں۔یہ بھی واضح رہے کہ صدقات اور زکوۃ اور اس طرح کی ہر ماہ کا روپیہ بھی یہاں آنا چاہیے۔تبلیغ رسالت جلده صفحه ۴۷ تا ۵۰ مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۴ ۵۵ تا ۵۵۷ طبع بار دوم )