حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 189 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 189

حیات احمد ۱۸۹ جلد پنجم حصہ دوم لئے اپنی عمر میں وقف کر دیں گے۔یہ بالکل جھوٹ ہے۔ہمارا کانشنس ہرگز اس بات کو قبول نہیں کرتا بلکہ اکثر لڑ کے اپنی دنیا کے لئے ہی مرتے ہیں اور جب اس قدر کوئی ڈگری حاصل کر لیں گے کہ جس سے وہ نوکر ہو سکیں تب وہ فی الفور روحانی تناسخ کو قبول کر کے ایک اور جون میں آجائیں گے بھلا جوش جوانی کی ہزاروں ظلمتوں اور جذبات سے باہر آنا سہل بات ہے یا ہر ایک کا کام ہے نہیں بلکہ نہایت ہی مشکل ہے۔لیکن میری امیدیں اُن غریبوں پر بہت ہیں جو نہ بی۔اے بننا چاہتے ہیں اور نہ ایم۔اے۔بلکہ بقدر کفایت معاش دنیا اختیار کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں ہر دم یہ خلش ہے کہ کسی طرح ہم نیک انسان بن جائیں اور خدا ہم سے راضی ہو۔سو وہ ہدایت پانے سے بہت قریب ہیں کیوں کہ ان کے خیالات میں تفرقہ نہیں ہے وہ میرے پاس رہ کر ہر روز تازہ بتازہ ہدایت پاسکتے ہیں۔سو انہیں کا سب سے زیادہ مجھے فکر ہے کیوں کہ ہم عمر کا بہت سلسلہ طے کر چکے ہیں اور تھوڑا باقی ہے۔اسی اطمینان کے حاصل کرنے کے لئے میں یہ اشتہار شائع کرتا ہوں۔یہ اشتہار کوئی معمولی تحریر نہیں بلکہ ان لوگوں کے ساتھ جو مرید کہلاتے ہیں یہ آخری فیصلہ کرتا ہوں۔مجھے خدا نے بتلایا ہے کہ میرا انہیں سے پیوند ہے یعنی وہی خدا کے دفتر میں مرید ہیں جو اعانت اور نصرت میں مشغول ہیں۔مگر بہتیرے ایسے ہیں کہ گویا خدا تعالیٰ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔سو ہر ایک کو چاہیے کہ اس نئے انتظام کے بعد نئے سرے عہد کر کے اپنی خاص تحریر سے اطلاع دے کہ وہ ایک فرض حتمی کے طور پر اس قدر چندہ ماہواری بھیج سکتا ہے۔مگر چاہیے کہ اس میں لاف گزاف نہ ہو جیسا کہ پہلے بعض سے ظہور میں آیا کہ اپنی زبان پر وہ قائم نہ رہ سکے۔سوانہوں نے خدا کا گناہ کیا جو عہد کو تو ڑا۔اب چاہیے کہ ہر ایک شخص سوچ سمجھ کر اس قدر ماہواری چندہ کا اقرار کرے جس کو وہ دے سکتا ہے گو ایک پیسہ ماہواری ہو۔مگر خدا کے ساتھ فضول گوئی اور در ونگوئی کا برتاؤ نہ کرے۔ہر ایک شخص جو مرید ہے اس کو چاہیے جو اپنے نفس پر کچھ