حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 188
حیات احمد ۱۸۸ جلد پنجم حصہ دوم که آمدن مستقل طور پر ساٹھ روپیہ ماہواری بھی نہیں اور خرچ آٹھ سو روپیہ ماہواری سے کم نہیں۔کوئی انتظام تَوَكُلًا عَلَى الله ضروری ہے۔بالخصوص جبکہ قحط کے دن بھی شدت کرتے جاتے ہیں اور طاعون کے دن بھی ہیں اس لئے میں نے سخت گھبراہٹ کے وقت میں بلحاظ ہمدردی اس جماعت کی جس کو میں اپنے ساتھ رکھتا ہوں اس انتظام کو اپنا فرض سمجھا۔اور نیز اس خیال سے بھی کہ عمر کا اعتبار نہیں لہذا میں چاہتا ہوں کہ غرباء اور ضعفاء کی ایک جماعت میرے ساتھ رہے جو میری باتوں کو سنے اور سمجھے۔اگر چہ ہمارے سلسلہ کے ساتھ اور مصارف بھی لگے ہوئے ہیں لیکن میں سنت انبیاء علیہم السلام کے مطابق سب سے زیادہ اس فکر میں رہتا ہوں کہ ایک گروہ حق کے طالبوں کا ہمیشہ میرے پاس رہے۔اور نیز دور دور سے لوگ آویں اور اپنے اپنے شبہات پیش کریں اور میں ان شبہات کو دور کروں۔اور نیز ایسے لوگ آویں جو خدا تعالیٰ کی راہ مجھ سے سیکھنا چاہتے ہیں۔اور نیز یہ کہ جو کچھ میں لکھوں وہ کتا بیں چھپتی رہیں۔اگر چہ ہمارے ساتھ مدرسہ کا بھی تعلق ہے اور اس کا انتظام خرچ بھی ابھی ناقص اور بالکل نا قابل اطمینان ہی ہے۔اور میں یہ بھی خوب جانتا ہوں کہ جولڑ کے اس مدرسہ میں پڑھیں گے وہ نسبتاً کچھ نہ کچھ سچائی اور دین داری اور پر ہیز گاری اور نیک چلنی کی راہ سیکھیں گے لیکن ان میں اور ہم میں بڑے پہاڑ اور کانٹے اور شور دار دریا ہیں۔بہت تھوڑے ہیں جو ان سب کو چیر کر ہم تک پہنچ سکتے ہیں ورنہ عموماً سب پڑھنے والے دنیا کے لئے مر رہے ہیں اور اس کتا کی مانند ہیں جو ایک دفن کئے ہوئے مردار کی مٹی اپنے پیروں سے کھودتا ہے اور جب وہ مردار ننگا ہو جاتا ہے تو اسے کھاتا ہے۔اسی طرح اُن پڑھنے والوں میں بڑا گر وہ تو ایسا ہی ہے کہ اُس مردار کی تلاش میں ہیں اور جب وہ مردار انہیں مل گیا تو پھر ہم کہاں اور وہ کہاں۔آخر انہیں باپوں کے وہ فرزند ہیں جنہوں نے دنیا کو قبول کر رکھا ہے۔کیا ہم سمجھ سکتے ہیں کہ وہ دنیا کو تین طلاق بھیج کر ہماری راہ پر چلیں گے اور ہمارے سلسلہ کے