حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 170
حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم اُس کے کرم وعطا کا ایک کرشمہ تو تھا ہی مگر اس مسئلہ شفاعت پر بھی روشنی پڑتی ہے۔خاکسار سب سے زیادہ خطا کار اور بخشش الہی کا طلبگار ہے صرف حضرت مسیح موعود کے طفیل اللہ تعالیٰ کی پاک وحی نے اسے بھی ایک متقی کی حیثیت سے نواز دیا۔اس لئے میں اس الہام کو جو مقدمات کی نسبت قبل از وقت با علام الہی شائع ہوا یہاں درج کر دیتا ہوں۔”میرے خیال پر یہ کشش غالب ہوئی کہ یہ مقدمات جو کرم دین کی طرف سے میرے پر ہیں ان کا انجام کیا ہوگا سو اس غلبہ کشش کے وقت میری حالت وحی الہی کی طرف منتقل کی گئی اور خدا کا یہ کلام میرے پر نازل ہوا۔إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ فِيهِ آيَاتٌ لِّلسَائِلِينَ اس کے معنے یہ مجھے سمجھائے گئے کہ ان دونوں فریقوں میں سے خدا اس فریق کے ساتھ ہو گا اور اس کو فتح اور نصرت نصیب کرے گا جو پر ہیز گار ہے یعنی جھوٹ نہیں بولتا ظلم نہیں کرتا تہمت نہیں لگاتا اور دعا اور فریب اور خیانت سے ناحق خدا کے بندوں کو نہیں ستاتا اور ہر ایک بدی سے بچتا اور راست بازی اور انصاف کو اختیار کرتا ہے اور خدا سے ڈر کر اُس کے بندوں کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی اور نیکی کے ساتھ پیش آتا ہے اور بنی نوع کا وہ سچا خیر خواہ ہے اس میں درندگی اور ظلم اور بدی کا جوش نہیں بلکہ عام طور پر ہر ایک کے ساتھ وہ نیکی کرنے کے لئے طیار ہے سو انجام یہ ہے کہ ان کے حق میں فیصلہ ہو گا تب وہ لوگ جو پوچھا کرتے ہیں جو ان دونوں گروہوں میں سے حق پر کون ہے؟ ان کے لئے یہ ایک نشان بلکہ کئی نشان ظاہر ہوں گے۔“ (الحکم مورخه ۳۰ / جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۱۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخہ ۳ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۸۹۔الفاظ کے کچھ فرق سے ) اس طرح پر اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت آنے والے واقعات سے اطلاع دے دی اور اس کے نتائج بھی ظاہر فرما دیئے اور یہ سب مجموعہ واقعات ایک پیشگوئی کے رنگ میں شائع ہو گیا۔میہ ظاہر ہے کہ اتنا لمبا سلسلہ جو مختلف قسم کے ابتلاؤں کا تھا اور جن سے بچ نکلنا انسان کے اپنے