حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 165
حیات احمد ۱۶۵ جلد پنجم حصہ دوم بعض مبشرات اس سلسلہ میں بعض مبشرات کا میں یہاں ذکر کرتا ہوں یہ سلسلہ دسمبر ۱۹۰۱ء میں ہی شروع تھا بلکہ اس سے بھی بہت پہلے " إِنِّي صَادِقٌ صَادِقٌ وَ سَيَشْهَدُ اللهُ لِی“۔ترجمہ۔میں صادق ہوں صادق ہوں عنقریب خدا تعالیٰ میری گواہی دے گا۔(الحکم جلد نمبرا مورخه ارجنوری ۱۹۰۳ صفحه) إِنِّي أَنَا الصَّاعِقَةُ ( میں ہی صاعقہ ہوں ) مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا نیا اسم ہے آج تک کبھی نہیں سنا۔حضرت اقدس نے فرمایا بیشک۔اسی طرح طاعون کی نسبت جو الہامات ہیں وہ بھی ہیں جیسے اُفْطِرُ وَ أَصُومُ یہ بھی کیسے لطیف الفاظ ہیں۔گویا خدا فرماتا ہے کہ طاعون کے متعلق میرے دو کام ہوں گے۔کچھ حصہ چپ رہوں گا۔یعنی روزہ رکھوں گا اور کچھ افطار کروں گا اور یہی واقعہ ہم چند سال سے دیکھتے ہیں۔شدت گرمی اور شدت سردی کے موسم میں طاعون دب جاتی ہے گویا وہ اصومُ کا وقت ہے اور فروری ، مارچ، اکتو بر وغیرہ میں زور کرتی ہے وہ گویا افطار کا وقت ہوتا ہے۔اور اسی لطیف کلام میں سے ہے۔إِنِّي أَنَا الصَّاعِقَةُ “ البدر جلد نمبر ۱۱ مورخه ۹/جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۸۶) اول ایک خفیف خواب میں جو کشف کے رنگ میں تھا مجھے دکھایا گیا کہ میں نے ایک لباس فاخرہ پہنا ہوا ہے اور چہرہ چمک رہا ہے پھر وہ کشفی حالت وحی الہی کی طرف منتقل ہوگئی چنا نچہ وہ تمام فقرات وحی الہی کے جو بعض اس کشف سے پہلے اور بعض بعد میں تھے، ذیل میں لکھے جاتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔يُبْدِى لَكَ الرَّحْمَانُ شَيْئًا لے حضرت اقدس نے فرمایا ”کے سے مراد کوئی عظیم الشان بات ہے اس کی عظمت کے لئے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کو پوشیدہ رکھا ہے۔کیوں کہ چھپانے میں ایک عظمت ہوتی ہے جیسے جنت کے انعامات کے لئے فرمایا ہے۔فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِى لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنِ کے کھانے پر جیسے دستر خوان ہوتا ہے اس کے چھپانے میں بھی ایک عظمت ہی مقصود ہوتی ہے۔غرض یہ چھوٹی سی بات نہیں ہے۔‘ الحکم جلدے نمبر صفحہ مورخہ، ارجنوری ۱۹۰۳ء) السجدة: ١٨