حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 164 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 164

حیات احمد ۱۶۴ جلد پنجم حصہ دوم مقدمات کا آغاز تب ان کے بڑے مشیروں نے یہ فیصلہ کیا کہ ازالہ حیثیت عرفی کا دعویٰ کیا جائے اور یہ دعویٰ حضرت اقدس خاکسار عرفانی ( ایڈیٹر الحکم ) اور حضرت حکیم مولوی فضل دین کے خلاف دائر کیا جائے۔اور یہ دعویٰ جہلم میں کیا جاوے تا کہ فریق ثانی پر غیر معمولی اخراجات کا بار تکلیف بدنی کے سوا ہو۔وہ جانتے تھے کہ حضرت اقدس کے سفر پر ہزاروں احمدی جمع ہوں گے اور جماعت پر مالی باراس انتظام کی وجہ سے ہوگا۔یہ منصوبہ بظاہر کچھ شک نہیں کہ بڑا منصوبہ تھا مگر اس میں ایک کسر رہ گئی۔ازالہ حیثیت عرفی کے مقدمہ میں بنیادی پہلو یہ قابل غور تھا کہ مدعی کون ہو اس لئے تو ہین زیر بحث مولوی محمد حسن فیضی کی قرار دی گئی تھی اس لئے کہ وہ کشتہ اعجاز مسیح تھا اس کے مرجانے کے بعد اگر تو ہین کا کوئی دعوی کر سکتا تھا تو اس کا باپ، بیٹا یا بیوی کر سکتی تھی مولوی کرم الدین صاحب گو فیضی کی جو رو کے بھائی تھے باپ بیٹے اور بیوی کی موجودگی میں صحیح قائم مقام قانونی استغاثہ کے لئے نہیں ہو سکتے تھے مگر یہاں تو ایک ہنگامہ پیدا کرنا تھا اور صرف ایک منصوبہ مدنظر تھا مگر وہ نہیں جانتے تھے یا جانتے تو تھے مگر اس پر ایمان نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اس مکر کا پردہ فاش کر دے گا۔غرض یہ مقدمہ بڑے جوش و خروش اور بڑی تیاریوں کے ساتھ جہلم میں دائر کر دیا گیا اور اس میں یک طرفہ ابتدائی سماعت کے بعد فریق ثانی کی طلبی کے لئے ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ء مقرر ہو چکی تھی۔مقدمہ کے کسی قدر تفصیلی حالات آگے آتے ہیں مگر اس سے پہلے جو واقعات اور امور پیش آئے سلسلہ مقدمات میں نہیں بلکہ بعض وہ مبشرات جو جناب باری کی طرف سے حضرت اقدس اور خدام جماعت کے انشراح صدر کے لئے قبل از وقت بطور پیشگوئی نازل ہوئے اور مقدمہ کے لئے روانگی سے پیشتر کا زمانہ جس طرح پر گزرا اس کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے۔