حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 163
حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم بھانڈا پھوٹ گیا ان خطوط کی اشاعت پر پیر صاحب کی ساختہ سازش کا بھانڈا پھوٹ گیا اور پریس اور پبلک میں ایک شور مچ گیا کہ ہماں کارش ز خود کامی به بدنامی کشید آخر نہاں کے ماند آں رازے کزو سازند محفل ہا مولوی کرم الدین اور پیر صاحب سے ان کے دوستوں یا مریدوں نے پوچھنا شروع کیا کہ حقیقت الامر کیا ہے اور اظہار حقیقت دونوں کی خود کشی کے مترادف تھا اس لئے بالآخر طے پایا کہ مولوی کرم الدین صاحب ان خطوط کا انکار کر دیں اور ان کو جعلی قرار دیں تا کہ اس جھوٹ کی اشاعت سے کچھ تو بات بن جاوے مگر ظاہر ہے کہ محض انکار کر دینا کافی نہ تھا جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ یہ خطوط اصلی نہیں ہیں اس کے ساتھ یہ مصیبت بھی تھی کہ اصل خطوط ہمارے ہاتھ میں تھے اور ان مکتوبات کے لکھنے والوں کے بآسانی ثابت ہو سکتے تھے اور ہوئے۔آخر بڑی ر دو قدح اور مشوروں کے بعد یہ قرار پایا کہ اخبارات میں ان کے جعلی ہونے کا پرو پیگنڈا کیا جاوے اس مقصد کے لئے انہیں صرف سراج الاخبار جہلم ہی میسر آیا اور دوسرے اخبارات نے باوجو د سلسلہ کے مخالف ہونے کے بھی ان کی مدد نہ کی اس لئے کہ وہ جانتے تھے کہ قادیان میں یہ خطوط نہیں بنائے گئے۔عذر گناه بدتر از گناه جب بعض دوسرے لوگوں نے بھی جو عقیدہ مخالف تھے مگر معقول پسند طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اس لا یعنی عذر کو غلط قرار دیا تو دوسرا پینترا یہ بدلا گیا کہ یہ خطوط ہم نے ( حضرت ) مرزا صاحب کے امتحان کے لئے کم علم بچوں سے لکھوائے تھے ہمارے د تخطی ہیں یہ عذر بدتر از گناہ تھا بلکہ الزام کو ثابت کرتا تھا۔تر جمہ۔خود غرضی کی وجہ سے میرے تمام کام انجام میں بدنامی پر پہنچے وہ راز کب چھپ سکتا ہے جس سے محفلیں گرم ہیں۔