حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 162 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 162

حیات احمد ۱۶۲ جلد پنجم حصہ دوم کتاب یعنی فتح رحمانی چھپی ہوئی موجود ہے دیکھو صفحہ ۲۶ و ۲۷ اور خدا سے ڈرو۔یہ دونوں پنجاب کے آدمی ہیں جو اپنے منہ سے مباہلہ کر کے آپ ہی مر گئے اگر یہ نشان نہیں تو معلوم نہیں ہمارے مخالفوں کے نزدیک نشان کس چیز کا نام ہے۔دوسری محمد حسن کی موت کا موجب وہ پیشگوئی ہے جو اعجاز مسیح کے ٹائٹل پیج پرلکھی گئی اور وہ یہ ہے مَنْ قَامَ لِلْجَوَابِ وَ تَنَمَّرَ فَسَوْفَ يَرَى أَنَّهُ تَنَدَّمَ وَ تَدَمَّرَ یعنی جو شخص اس کتاب کے جواب پر آمادہ ہوگا اور پلنگی دکھلائے گا وہ عنقریب دیکھے گا کہ اس کام سے نامراد رہا اور اپنے نفس کا ملامت گر ہوا اور اس سے بڑھ کر کیا نامرادی ہوسکتی ہے کہ محمد حسن حسرت کو ساتھ ہی لے گیا اور مر گیا۔اور اس ارادہ کو جو کہ وہ عربی کتاب کا عربی میں جواب لکھے پورا نہ کر سکا اور نہ کچھ شائع کر سکا۔تیسری محمد حسن کی موت کا موجب وہ دعائے مباہلہ ہے جو اعجا ز المسیح کے صفحہ ۱۹۹ میں کی گئی تھی۔چوتھے محمد حسن کی موت کا موجب وہ وحی الہی ہے جو مدت ہوئی جو دنیا میں شائع ہو چکی یعنی یہ که إِنِّي مُهِينٌ مَنْ اَرَادَ اهَانَتَكَ یعنی میں اس کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلت چاہتا ہے۔پس چونکہ اس نے اعجاز المسیح پر قلم اٹھا کر میری ذلت کا ارادہ کیا اس لئے خدا نے اس کو ذلیل کر دیا اور اپنے منہ سے موت مانگ کر چند روز میں ہی مر گیا اور اپنی موت کو ہمارے لئے ایک نشان چھوڑ گیا۔فَالحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ۔منه (نزول المسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۴۵ تا ۴۶۱ حاشیه ) حیح اسی طرح محی الدین لکھو کے والے کا حال ہوا جب اس نے یہ الہام چھپوایا کہ ”مرزا صاحب فرعون تب اس کی وفات سے پہلے میں نے اس کو بذریعہ ایک خط کے جو اگست ۱۸۹۴ء کولکھا گیا تھا اطلاع دی کہ اب وہ فرعون کی طرح اس موسیٰ کے سامنے اپنی سزا کو پہنچے گا۔چنانچہ انہیں دنوں اور اس کی زندگی میں وہ خط الحق سیالکوٹ میں چھپا اور پھر اس کے مرنے کے بعد اس نشان کے اظہار کے لئے وہی خط مع اس کی تاریخ وفات کے اخبار الحکم قادیان مورخہ ۲۴ / جولائی ۱۹۰۱ء میں چھاپا گیا۔دیکھو الحکم ۲۴ / جولائی ۱۹۰۱ء صفحہ ۵ کال ۲ و ۳۔منہ