حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 161
حیات احمد 171 جلد پنجم حصہ دوم (۵) محمد حسن متوفی کا لڑکا جس نے اپنے گھر سے اس کام کے لئے کتا بیں نکالیں کہ اپنے خسر کو دیوے تا وہ فروخت کرا دیوے اور جواب مفصل حاشیہ میں آ گیا ہے ان نوٹوں میں اس نے اپنی جہالت اور تعصب اور شتاب کاری کی وجہ سے بہت سی قابل شرم غلطیاں کی ہیں۔لیکن اب مردہ کو ملامت کرنا بے فائدہ ہے۔اس قدر اس کے نوٹوں میں فحش غلطیاں ہیں کہ اگر اس کو جلدی سے موت نہ پکڑ لیتی تو وہ ضرور نظر کر کے اپنی غلطیوں کی حتی المقدور اصلاح کرتا۔مگر یہ سوال کہ اس قدر جلد تر کیوں موت آگئی اس کا جواب یہی ہے کہ اس موت کی تین وجہ ہیں اول تو یہی کہ اس نے ان نوٹوں میں اپنے منہ سے موت مانگی اور اپنے ہاتھ سے کتاب پر لکھا کہ لَعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِ بِيْنَ چنانچہ جن نوٹوں میں اس نے فریق کا ذب پر ہم دونوں فریق میں سے لعنت کی ہے وہ اس وقت ہمارے سامنے رکھے ہیں۔جو پانچ گواہوں کی شہادت سے وہی نوٹ ہیں۔جو اُس نے اپنی قلم سے کتاب اعجاز المسیح اور شمس بازغہ پر لکھے تھے اور خوداصل نوٹ جن کی ی نقل اس کے باپ نے ان گواہوں کے حوالہ کی اس کے گھر میں موجود ہے جو اس کے مباہلہ کی ایک پختہ نشانی ہے جو باوا نانک کے چولہ کی طرح زمانہ دراز تک یادگار رہے گی اور یہ مباہلہ جس کے بعد وہ دو ہفتہ بھی زندہ نہ رہ سکا۔ان لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے جواب ہے جو کہا کرتے ہیں کہ ہم اس مباہلہ کو مانیں گے جس کے آخری نتیجہ پر دو تین ہفتہ سے زیادہ طول نہ بھیجے۔سواب ہم منتظر ہیں کہ وہ اس نشان کو مانتے ہیں یا نہیں اور عجیب تر کہ محمد حسن مباہلہ کے بعد مرا۔اسی طرح غلام دستگیر قصوری کا حال ہوا تھا کہ اس نے بھی محمد حسن کی طرح میری رڈ میں ایک کتاب بنائی اور اس کا نام فتح رحمانی رکھا اور اس کے صفحہ ۲۷ میں جوش میں آ کر دعا کر دی جس کا یہ خلاصہ ہے کہ یا الہی جو شخص کاذب ہے اور جھوٹ بول رہا ہے اور بیچ کو چھوڑ رہا ہے اس کو ہلاک کر۔آمین۔تب ایک مہینہ بھی اس کتاب کے لکھنے پر نہ گزرنے پایا تھا کہ آپ ہلاک ہو گیا۔اس کی یہ