حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 153
حیات احمد ۱۵۳ جلد پنجم حصہ دوم کہ یہ میری تالیف ہے حالانکہ یہ اس کی تالیف نہیں۔کیوں پیر جی اب اجازت ہے کہ اس وقت ہم بھی کہہ دیں کہ لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِين۔رہامحمد حسن پس چونکہ وہ مَر چکا ہے اس لئے اس کی نسبت لمبی بحث کی ضرورت نہیں وہ اپنی سزا کو پہنچ گیا۔اس نے جھوٹ کی نجاست کھا کر وہی نجاست پیر صاحب کے منہ میں رکھ دی۔میں نے کتاب اعجاز المسیح کے سر پر بطور پیش گوئی بیان کر دیا تھا کہ جو شخص اس کتاب کے جواب کا ارادہ کرے گا وہی نامرادر ہے گا سو اس سے زیادہ کیا نا مرادی ہے کہ وہ اپنی لغو کتاب کو چھاپ ہی نہ سکا اور مر گیا اور پھر اُس کے مُردار کو چُرا کر پیر مہر علی نے اپنی کتاب میں کھایا اور وہ بھی نامراد رہا کیونکہ مہر علی کی غرض یہ تھی کہ اس کتاب کے لکھنے سے اپنی مشیخت ظاہر کرے کہ میں بھی عربی خوان ہوں اور ادیب ہوں مگر بجائے ناموری کے اس کا چور ہونا ثابت ہوا۔کون اس سے تعجب نہیں کرے گا کہ چور بھی ایسا د لیر چور نکلا کہ مُردہ کی ساری کتاب کو نگل گیا اور ڈکار نہ لیا اور محمد حسن بد قسمت کا ایک دفعہ بھی ذکر نہ کیا اور ایک دوسرانشان یہ ہے کہ اسی کتاب اعجاز المسیح کے صفحہ ۱۹۹ میں میں نے یہ دعا کی تھی رَبِّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ أَعْدَائِي هُمُ الصَّادِقُونَ الْمُخْلِصُوْنَ فَأَهْلِكُنِي كَمَا تُهْلَكُ الْكَذَّابُونَ۔وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي مِنْكَ وَ مِنْ حَضْرَتِكَ فَقُمْ لِنُصْرَتِی - ترجمہ۔یعنی اے میرے خدا! ! اگر تو جانتا ہے کہ میرے دشمن بچے ہیں اور مخلص ہیں پس تو مجھے ہلاک کر جیسا کہ تو جھوٹوں کو ہلاک کرتا ہے اور اگر تو جانتا ہے کہ میں تیری طرف سے ہوں تو دشمن کے مقابل پر میری مدد کرنے کے لئے تو کھڑا ہو جا۔پس صاف ظاہر ہے کہ اس کتاب اعجاز مسیح کے شائع ہونے کے بعد محمد حسن بھیں مقابلہ کے لئے میدان میں نکلا۔اس لئے ہمو جب اس مباہلہ کی دعا کے مارا گیا۔اب ہم اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ در حقیقت پیر مہر علی صاحب نے اپنی کتاب سیف چشتیائی میں جس کو در حقیقت طنبور چشتیائی کہنا چاہیے اپنی طرف سے