حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 152 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 152

حیات احمد ۱۵۲ جلد پنجم حصہ دوم وصول کر کے مصیبت زدہ بیوہ کو دیتا تو اس روسیاہی سے کسی قدر بچ جاتا مگر ضرور تھا کہ وہ اس قابل شرم چوری کا ارتکاب کرتا تا خدا تعالیٰ کا وہ کلام پورا ہو جاتا کہ جو آج سے کئی برس پہلے میرے پر نازل ہوا اور وہ یہ ہے انسٹی مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ إِهَانَتَكَ» یعنی میں اس کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کا ارادہ کرے گا۔اس شخص نے کتاب سیف چشتیائی میں میرے پر الزام سرقہ کا لگایا تھا اور سرقہ یہ کہ کتاب اعجاز المسیح کے تقریباً بیس ہزار فقرہ میں سے دو چار فقرے ایسے ہیں جو عرب کی بعض مشہور مثالیں یا مقامات حریری وغیرہ کے چند جملے ہیں جو الہا می توارد سے لکھے گئے۔اور اپنی کرتوت اس کی اب یہ ثابت ہوئی جو محمد حسن مُردہ کا سارا مسودہ اپنے نام منسوب کر لیا اور اُس بد بخت کا ذکر تک نہ کیا۔اب دیکھو یہ خدا تعالیٰ کا نشان ہے یا نہیں کہ دو چار فقروں کا سرقہ میری طرف منسوب کرنے کے ساتھ ہی خود ایک پوری کتاب کا سارق ثابت ہو گیا۔اگر اُس کا اعتراض صحیح تھا تو کیوں خدا تعالیٰ نے اس کو رسوا کیا اور جب لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ مہر علی نے ایک مردہ کا مضمون چرا کر کفن دزدوں کی طرح قابل شرم چوری کی ہے اور بعض اس کے دوستوں نے اس کی طرف خط لکھے کہ ایسا کرنا مناسب نہ تھا تو یہ جواب دیا کہ میں نے محمد حسن مردہ سے اجازت لے لی تھی ، صاف ظاہر ہے کہ اگر محمد حسن مردہ اجازت دیتا تو اپنی زندگی میں ہی دیتا مسودہ اس کے پاس بھیجتا نہ یہ کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی بیوہ کے پاس سے منگوایا جاتا اور پھر بہر حال یہ ذکر تو کرنا چاہیے تھا کہ میں بذات خود عربیت اور علم ادب سے بے نصیب ہوں اور یہ مسودات محمد حسن مُردہ کے مجھے ملے ہیں مگر کہاں ذکر کیا؟ بلکہ بڑے فخر سے دعوی کیا کہ یہ کتاب میں نے آپ بنائی ہے۔دیکھو اہل حق پر حملہ کرنے کا یہ اثر ہوتا ہے کہ مجھے چند فقرہ کا سارق قرار دینے سے ایک تمام و کمال کتاب کا خود چور ثابت ہو گیا اور نہ صرف چور بلکہ کذاب بھی کہ ایک گندہ جھوٹ اپنی کتاب میں شائع کیا اور کتاب میں لکھ مارا -