حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 151 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 151

حیات احمد ۱۵۱ جلد پنجم حصہ دوم چوری دکھا سکتا ہوں بلکہ اس نے خود پیر مہر علی شاہ کا دستخطی ایک کارڈ بھیج دیا ہے جس میں وہ اس چوری کا اقرار کرتا ہے لیکن بعد اس کے یہ بیہودہ جواب دیتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں مجھے اجازت دے دی تھی کہ اپنے نام پر اس کتاب کو چھاپ دیں لیکن یہ عذر بدتر از گناہ ہے کیونکہ اگر اس کی طرف سے یہ اجازت تھی کہ اس کے مرنے کے بعد مہر علی اپنے تئیں اس کتاب کا مؤلف ظاہر کرے تو کیوں مہرعلی نے اس کتاب میں اس اجازت کا ذکر نہیں کیا اور کیوں دعویٰ کر دیا کہ میں نے ہی اس کتاب کو تالیف کیا ہے صاف ظاہر ہے کہ یہ تو بے ایمانی کا طریق ہے کہ ایک شخص وفات یافتہ کی کل کتاب کو اپنی طرف منسوب کر لیا اور اس کا نام تک نہ لیا۔جس حالت میں مولوی محمد حسن نے خدا تعالیٰ کا مقابلہ کر کے اپنے تئیں اعجاز المسیح کے ٹائیٹل پیج کی مندرجہ پیشگوئی أَنَّهُ تَندَّمَ وَ تَذَمَّرَ کے موافق ایسا نا مراد بنایا کہ جان ہی دے دی اور پھر اعجاز المسیح صفحہ ۱۹۹ کی مباہلانہ دعا کا مصداق بن کر اپنے تئیں ہلاکت میں ڈال لیا تو ایسے کشتہ مقابلہ کے احسان کا ذکر کرنا بہت ضروری تھا اور دیانت کا یہ تقاضا تھا کہ پیر مہر علی شاہ صاف لفظوں میں لکھ دیتا کہ یہ کتاب میری تالیف نہیں ہے بلکہ محمد حسن کی تالیف ہے اور میں صرف چور ہوں نہ یہ کہ دروغگوئی کی راہ سے خطبہ کتاب میں اس تالیف کو اپنی طرف منسوب کرتا۔بلکہ چاہیے تھا کہ اس بد قسمت وفات یافتہ کی بیوہ کے گزارہ کے لئے اس کتاب میں سے حصہ رکھ دیتا۔جس حالت میں محض لاف زنی کے طور پر اس نے یہ مشہور کیا ہے کہ میں نے یہ کتاب مفت تقسیم کی ہے تو کس قدرضروری تھا کہ وہ کتاب کی ابتدا میں لکھ دیتا کہ میں اپنا حق تو اس کتاب کے متعلق چھوڑتا ہوں لیکن چونکہ دراصل یہ کتاب محمد حسن کی تالیف ہے جس کو میں نے بطور سرقہ اپنی طرف منسوب کیا ہے اس لئے میں اس کی بیوہ کے گزارہ کے لئے ۴ ( چار آنہ ) فی جلد خریداروں سے مانگتا ہوں تا وہ چکی پینے کی مصیبت سے بچے۔اور اگر وہ ایسا طریق اختیار کرتا اور فی جلد۴ ( چار آنه)