حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 150 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 150

حیات احمد ۱۵۰ جلد پنجم حصہ دوم کیا یہ اعجاز عیسوی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی کوشش یا ذاتی علم کے یہ خطوط حضرت کی خدمت میں پیر صاحب کے دوستوں نے پہنچا دیئے۔کس طرح پر وہ خطوط پبلک میں آئے یہ سب ایک اعجازی رنگ ہے۔پردہ دری کے خطوط " مجھے آج ۲۶ جولائی ۱۹۰۲ء کو موضع بھیں سے میاں شہاب الدین دوست مولوی محمد حسن بھیں کا خط ملا جس میں انہوں نے تحریر کیا ہے کہ میں پیر مہر علی شاہ کی کتاب دیکھ رہا تھا کہ اتنے میں اتفاقاً ایک آدمی مجھ کو ملا جس کے پاس کچھ کتابیں تھیں اور وہ مولوی محمد حسن کے گھر کا پتہ پوچھتا تھا اور استفسار پر اُس نے بیان کیا کہ محمد حسن کی کتابیں پیر صاحب نے منگوائی تھیں اور اب واپس دینے آیا ہوں میں نے وہ کتا ہیں جب دیکھیں تو ایک ان میں اعجاز المسیح تھی جس پر محمد حسن متوفی نے اپنے ہاتھ سے نوٹ لکھے ہوئے تھے اور ایک کتاب شمس بازغہ تھی اور اس پر بھی محمد حسن مذکور کے نوٹ لکھے ہوئے تھے اور اتفاقاً اس وقت کتاب سیف چشتیائی میرے پاس موجود تھی جب میں نے ان نوٹوں کا اس کتاب سے مقابلہ کیا تو جو کچھ محد حسن نے لکھا تھا بلفظها بغیر کسی تصرف کے پیر مہر علی نے بطور سرقہ اپنی کتاب میں اس کو نقل کر لیا تھا بلکہ به تبدیل الفاظ یوں کہنا چاہیے کہ پیر مہر علی شاہ کی کتاب وہی مسروقہ نوٹ ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔پس مجھ کو اس خیانت اور سرقہ سے سخت حیرت ہوئی کہ کس طرح اُس نے اُن تمام نوٹوں کو اپنی طرف منسوب کر دیا۔یہ ایسی کارروائی تھی کہ اگر مہر علی کو کچھ شرم ہوتی تو اس قسم کے سرقہ کا راز کھلنے سے مر جاتا نہ کہ شوخی اور ترک حیا سے اب تک دوسرے شخص کی تالیف کو جس میں اس کی جان گئی اپنی طرف منسوب کرتا اور اس بد قسمت مُردہ کی تحریر کی طرف ایک ذرہ بھی اشارہ نہ کرتا اور پھر بعد اس کے میاں شہاب الدین لکھتا ہے کہ میں ہر ایک شخص کو جو مہر علی کی اس خیانت کو دیکھنا چاہے اس کی یہ قابل شرم