حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 5
حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر تمہیدی نوٹ حمد و ثنا اُسی کی جو ذات جاودانی ہمسر نہیں ہے اُس کا کوئی نہ کوئی ثانی باقی وہی ہمیشہ غیر اُس کے سب ہیں فانی غیروں سے دل لگانا جھوٹی ہے سب کہانی ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) ا۔میری زبان قلم اور قلم زبان میں وہ قوت و قدرت نہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے ان انعامات و احسانات کا ذکر اور شکر کر سکوں جو اس نے بیچیر زپر محض اپنے فضل و کرم سے کئے ہیں۔آغاز شباب سے لے کر اس وقت تک کہ میں ۸۴ ویں سال کو ختم کر رہا ہوں اس نے خدمت دین کا موقع اس بطل اعظم کی خدمت میں رہ کر جو مسیح موعود کے نام سے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر موعود قرار دیا گیا تھا اور جس کے ذریعہ اظہار الدین کی تکمیل عملاً ہونے والی تھی عطا کیا اور سچ یہی ہے۔ایں سعادت بزور بازو نیست تا نه بخشد خدائے بخشنده ۲۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مرفوع ہوئے ۴۷ سال گزرچکے اور اس عرصہ میں سلسلہ پنجاب اور ہندوستان سے نکل کر اکناف عالم میں پھیل گیا اسی ربانی وعدہ کے موافق کہ ” میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا ، مگر یہ دکھ کی بات ہے کہ ہم اس عرصہ میں حضور علیہ السلام کے کام اور کارناموں کے متعلق کوئی مکمل تالیف شائع نہ کر سکے۔وقت آئے گا اور وہ دور بھی نہیں بلکہ آچکا کہ ہر ملک اور ہر زبان میں آپ کا ذکر ہوگا اور سیہ اللہ تعالیٰ کی پاک وحی میں پیشگوئی ہے جو آپ پر نازل ہوئی يَرْفَعُ اللَّهُ ذِكْرَكَ یعنی اللہ تعالٰی تیرے ذکر کو بلند کرے گا۔میں نے آپ کے حالات زندگی لکھنے کو عبادت یقین کیا اور اللہ تعالیٰ ہی له تذکره صفحه ۲۶۰ مطبوعه ۲۰۰۴ء کے تذکره صفحه۳۹ مطبوعه ۲۰۰۴ء