حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 139 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 139

حیات احمد ۱۳۹ جلد پنجم حصہ دوم اور راقم کو ان امور میں استخفاف کی نگاہ سے دیکھیں مگر خدا کی نصرتوں کے مواطن کو جاننے والے اور ایام اللہ سے عارف سمجھتے ہیں کہ یہی باتیں ہیں جو مومنین کے ایمان وعرفان کو بڑھاتی ہیں۔شام کو یعنی (۲۳ فروری کی شام کو ) مغرب کی نماز کے بعد حضرت موعود علیہ السلام تحدیث بالنعمت کے طور پر ذکر کرنے لگے کہ اس کتاب کے پورا کرنے میں اللہ تعالیٰ نے کس قدر تائید کی ہے۔دن اور رات میں ضعف بشریت کی وجہ سے امراض کے غلبہ کے وقت خیال آجا تا تھا کہ اب آخری دم ہے پھر فرمایا کہ وہ دو زرد چادر میں جو مسیح موعود کا نشان پیغمبر خدا ﷺ کے منہ سے نکلا ہے وہ تو ہمارے ساتھ زندگی بھر میں چلی جائیں گی۔یعنی ایک بیماری اوپر کے حصہ میں اور ایک بیماری نیچے کے حصہ میں اور یہ اس لئے ہے کہ تا خدا تعالیٰ اپنی قدرتیں دکھائے کہ کیونکر سارا کام وہ اپنی ہی قدرت اور قوت سے کرتا ہے اور تا وہ دکھائے کہ اگر وہ چاہے تو ایک تنکے کے مقابل تمام متکبر زور آوروں اور کوہ وقاروں کو عاجز کر دے۔پھر فرمایا۔رات ایک پھنسی نے جو کئی دن سے نکلی ہوئی ہے اور ساتھ ہی خارش نے تنگ کیا بشریت کی وجہ سے دھیان آیا کہ کہیں یہ ذیا بیطیس کا اثر اور نتیجہ نہ ہو اتنے میں خدائے رحیم قدوس نے وحی کی کہ ”انّى اَنَا الرَّحْمَنُ دَافِعُ الاذى اور پھر وحی ہوئی إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُونَ" اب میں اس چٹھی کو ختم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ہمارے بھائیوں کو ایمان اور محبت میں اپنے برگزیدہ موعود کے ساتھ روز افزوں ترقی مرحمت کرے اور وَسُوَاسِ خَناس کی تمام باریک راہوں پر انہیں آگاہ کر دے جن سے وہ عَلَی الْغَفْلَہ حملہ کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے عزموں کو قوی اور ہمتوں کو چست کر دے اور ان کی بصیرت اور فراست میں نور رکھ دے کہ وہ پست فطرت، کمینہ طبع، نکتہ چینوں کو جو خدا کے برگزیدوں اور ماموروں پر بغض اور حقد اور حسد اور بغی کی راہ سے حملہ کرتے ہیں بالبداہت تاڑ لیں اور ایسی تمام کتابوں اور تحریروں کو جوان تعفنات سے بھری ہیں پہلی ہی نظر میں پہچان جائیں اور مشامِ جاں کو اُن کی زہریلی بد بو سے بچالیں۔اُن کو معالى طلب فطرت