حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 140 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 140

حیات احمد ۱۴۰ جلد پنجم حصہ دوم ملے اور مقاصد عالیہ اور عظیمہ ان کے پیش نہاد ہوں اور خوب سمجھ لیں کہ راستی کے بھوکوں اور علوم حقہ کے پیاسوں کو سیر و سیراب کرنے والا ایک ہی برگزیدہ ہے جس کا نام پاک مرزا غلام احمد ہے اور جان لیں کہ اس کے سوا اور سب ظلم وظلمت کے فرزند اور ہلاکت اور تاریکی کی طرف بلانے والے ہیں۔اے خدائے کریم ! تو ہم سے اسی طرح راضی ہو جا جس طرح تو ان منعم علیہم سے راضی ہوا جن کا مذکور تیرے پاک کلام قرآن کریم میں ہے تو اس صرصر کے تیند جھونکوں کے مقابل جو آن کل چاروں طرف سے چل رہی ہیں ہمیں ثبات و استقامت عطا فرما کہ ساری تو فیقوں کا مخزن تو ہی ہے۔آمین عاجز عبدالکریم از قادیان ۲۷ فروری ۱۹۰۱ء الحکم جلد ۵ نمبر ۸ مورخه ۳/ مارچ ۱۹۰۱ء صفحه اتا۹) اپنے اس مکتوب میں حضرت اقدس کے اس اعجاز کا بھی کسی قدر ذکر کیا ہے اور وہ بطور ایک شاہد عینی کے ہے حضرت اقدس نے کسی قدر صراحت اس کی اپنی کتاب نزول المسیح میں بھی فرمائی ہے اور اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ گولڑوی صاحب نے سیف چشتیائی میں چند فقرات کے متعلق اعتراض کیا تھا کہ یہ اس یا اُس کتاب میں پائے جاتے ہیں۔اس کے جواب میں بڑی معقول اور طویل بحث کرتے ہوئے آپ نے اس کے جواب میں بذریعہ الہام عربی زبان کے بطور نشان دیئے جانے کا ذکر فرمایا۔چنانچہ فرماتے ہیں۔یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں خاص طور پر خدائے تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے اور ہمیشہ میری تحریر گو عربی ہو یا اردو یا فارسی دو حصہ پر منقسم ہوتی ہے۔(۱) ایک تو یہ کہ بڑی سہولت سے سلسلہ الفاظ اور معانی کا میرے سامنے آتا جاتا ہے اور میں اس کو لکھتا جاتا ہوں اور گو اس تحریر میں مجھے کوئی مشقت اٹھانی نہیں پڑتی مگر دراصل وہ سلسلہ میری دماغی طاقت سے کچھ زیادہ نہیں ہوتا یعنی الفاظ اور معنے ایسے ہوتے ہیں