حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 134
حیات احمد ۱۳۴ جلد پنجم حصہ دوم مسخ ہو گئے ہیں کہ ایک دفعہ ہی سب کے سب پکار اٹھے ہیں کہ مہرعلی شاہ جیت گیا۔کس بات میں جیت گیا۔کیا کام کیا۔کونسا معجزہ اور کرامت لوگوں کو دکھائی۔بس یہی کہ نالائقی اور بے بضاعتی اور تہی دستی کی ندامت کو چھپانے کے لئے سیاہ ظلم اور فریب کی چال اختیار کر کے لاہور میں آ گیا۔اگر حضرت اقدس کے کام اور کلام میں کوئی چہل اور فند ہوتا تو ہم اللہ تعالیٰ کے لئے سب سے اوّل اس کی مخالفت کرنے والے ہوتے اور اُس چال سے واقف ہو جاتے۔عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُور گواہ اور آگاہ ہے کہ کوئی چیز نہیں جس نے ہمیں زنجیروں سے جکڑ کر یہاں بٹھا رکھا ہے بجز صدق اور حق کی پیاس اور محبت کے جو ہمارے محبوب امام کے ہر قول اور ہر فعل سے عیاں ہے۔حضرت اقدس نے ہم سے جو اُس وقت سو سے کم قادیان میں نہ تھے مسجد مبارک میں مشورہ کیا کہ آیا اس صورت میں جو اب پیش آئی ہے مہر علی شاہ کے لئے لاہور جانا چاہیے ہم سب نے بالا تفاق اور شرح صدر سے عرض کیا کہ شرط تو عربی فصیح بلیغ میں تفسیر لکھنے کے لئے تھی وہ مہر علی شاہ نے توڑ دی، اب اگر وہ کوئی چال اختیار کر کے لاہور آ گیا ہے تو آئے ہمیں خدا کے مقدس اور محترم انسان کی ہتک معلوم ہوتی ہے کہ اب اس کے مقابل لا ہور جائے۔رہا یہ اندیشہ کہ عوام کا لانعام شور مچائیں گے اور وہ جو حقیقت کو نہیں سمجھتے اتنے ظاہری نظارہ پر قناعت کر جائیں گے کہ لو دیکھو مہر شاہ آ گئے۔اور مرزا صاحب نہیں آئے۔لیکن یہ معمولی باتیں ہیں جو راستبازوں کی راہ میں آیا ہی کرتی ہیں۔لِيُمَحِّصَ اللهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نا عاقبت اندیش ہجن نافہموں ، بدگمانوں ،شتاب کاروں میں اور بات کی تہہ میں پہنچ جانے والوں تقویٰ شعاروں میں فرق کر دے۔اگر ہم نے امام کو کمزور اور ناتواں اور مقابلہ میں ڈرپوک اور مہر شاہ کو پورا پہلوان سمجھ کر دانستہ یہ کارروائی کی اور ایک سیاہ پردہ حق اور حقیقت پر ڈال دیا تو ہم سے زیادہ آسمان کے نیچے زمین کے اوپر کوئی ملعون نہیں ہم نے پہلے خلقت کو تو اپنے اوپر ناراض کیا تھا اب خدائے غیور کے غضب اور مفت کی آگ کو بھڑ کا یا۔اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہم راستی پر ہیں اور ہر وقت اس کے غضب سے ایسا ہی ڈرتے ہیں جیسے اس کے ملائکہ مقربین اور عباد صالحین ڈرتے ہیں اور ہم صدق دل سے لعنت بھیجتے ہیں اس دل پر جو ایک کا ذب کو صادق کہے اور اس