حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 129
حیات احمد ۱۲۹ جلد پنجم حصہ دوم ہمتوں اور قصدوں کے ہاتھ شل کر دیئے اور وہ اس نامردی اور روسیاہی پر تہ دل سے راضی ہو گئے اور جس شخص کی تردید اور انکار ان کی دلی مراد تھی اس بزدلی سے انہوں نے اپنے ہاتھوں، پاؤں پڑکر ، مٹی پر ناک رگڑ کر اس کے صدق پر مہر کر دی۔خدا ترس اہل دل اور سنن انبیاء ( علیہم السلام) سے واقف اس کلام سے جو اس صدف عصمت و عفت کے قیمتی موتی کے منہ سے نکلا ہے نور اور فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔میرے قلب کی بناوٹ خداوند حکیم نے ایسی بنائی ہے کہ میں رسول کریم ﷺ کی ازواج مطہرات خصوصاعائشہ صدیقہ کی شہادت کو حضور سرور کائنات ﷺ کی رسالت کے صدق پر لانظیر شہادت مانتا ہوں ایک محرم تمام گردو پیش کے حالات سے واقف جس پر بے تکلفی اور سادگی اور اضطراری تحریکات اور جذبات وقتا فوقتا بر ہنہ تجلی کرتی اور اپنا سارا اندرونہ کبھی بتدریج اور کبھی بیک بارگی اگل کرسامنے رکھ دیتی ہیں اپنے ایسے رفیق کی نسبت گواہی دے اور رفتار زندگی میں اپنے چال چلن سے اس شہادت پر اپنے صدق و ثبات سے حقیقت کا نشان لگا دے یہ صدق کا ایسا نشان ہے کہ کسی بڑے نشان سے نیچے نہیں۔اسی بناء پر میں نے اس شہادت اور پاک اور سادہ الفاظ میں ادا کی ہوئی شہادت کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے جو حضرت صدیقہ ثانیہ نے حضرت موعود علیہ السلام کی نسبت دی ہے آہ بد بخت اور کج دل جو ان باتوں کو استخفاف اور حقارت سے دیکھے۔کاش کوئی اور پیرا یہ ہوتا کوئی اور الفاظ ہوتے جوان صداقتوں اور میرے صدق دل اور ایمان اور بصیرت ، اور خشیۃ اللہ کو مدنظر رکھتے ہوئے دل کے بچے اظہارات کے ایصال اور اظہار کا ذریعہ بن سکتے اور شکوک اور اوہام اور بدگمانیوں کے پتھروں کو لوگوں کی راہ سے صاف کر سکتے مگر سنت اللہ اور سنت الانبیاء اور اطراف اور نئی تلاشوں سے مایوس کر دیتی ہے جب کہ وہ یقین دلاتی ہے کہ ایک ہی ذریعہ ہے جس سے سارے خدا کے برگزیدے شناخت کئے جاتے ہیں اور وہ یہی ہے جو ہمارے برگزیدہ امام علیہ السلام کی پاک زندگی پوری صفائی سے پیش کر رہی ہے۔خدا تعالیٰ کی لگاتا رنصرتیں آسمان سے اور محرم راز انیسوں اور واقف حال جلیسوں کی خدا کے لئے گواہیاں زمین سے۔اگر یہ معیار صدق نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں ایک امی نے