حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 126
حیات احمد ۱۲۶ جلد پنجم حصہ دوم ہونے کا ایک نشان اور معیار اور ایک چلہ باقی۔کوئی معمولی آدمی ہو اور عزت وذلت کا معاملہ ہو تو ایک سوچنے والا سوچ سکتا ہے کہ اس کے دل اور جان پر کیا گزر سکتی ہے۔یہاں سارے جہاں سے ٹکر لگی ہوئی ہے ایک مامور اور مرسل اللہ کی برسوں کی کامیاب عزت معرض امتحان میں اور ضعیف محدود بشری نگاہ کے نزدیک معرض خطر میں تھی۔مسودہ لکھنا۔کا پی لکھنا۔پروف دیکھنا اور پوری صفائی سے چھپنا یہ سب کام ضروری تھا کہ اس تھوڑی مدت میں پورے ہوں۔میرا دل بصیرت اور دلائل سے اس پر شاہد اور قائم ہے کہ اس وقت سے کہ آپ کی مبارک انگلیوں کو چھونے کا شرف قلم کو ملا ایسی تقیید اور تنقید کا کام کبھی آپ کے پیش نہیں آیا۔ایک بات اور ایک تکلیف آپ کو پیش نہیں آئی مختلف قسم کی زحمتوں کا سامنا آپ کو کرنا پڑا۔آپ کی کریم رحیم فطرت کا نبوت محمدیہ ( عَلَى صَاحِبِهَا الصَّلوةُ وَالتَّحِيَّه ) اور قرآن کریم کے اتباع سے ایک ہی رنگ پر اور مختصر پیرایہ پر قانع نہ ہونا۔معانی اور نکات کے بحر ذخار کی مضطرب امواج کا آپ کی معنی آفرین جودت را طبیعت میں موجیں مارنا۔محدود وقت کی سخت قید کا لگ جانا اور ان سب پر اور سب۔سے زیادہ زحمت خوفناک امراض کا پے در پے حملہ آور ہونا۔غرض یہ ایسی تحریکیں اور دباؤ تھے کہ ایک غیر مامور کو پیس کر سرمہ کر دیتے۔بسا اوقات قومی دل لوگ بھی ایسے موقعوں پر جی چھوڑ کر رہ جاتے ہیں اور جدید اور لذیذ مضامین کا پیدا کرنا تو برکنار موجودہ علم و دانش بھی ان کے دماغ سے پرواز کر جاتی ہے مگر حضرت موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی تائید اور اذن سے ۲۰ تاریخ کو تفسیر کی تسوید سے فراغت کر لی اور کا تب اور مطبع کا کام رہا جو انشاء اللہ تعالیٰ دو روز میں انجام کو پہنچ جائے گا۔میرا موضوع اس وقت یہ نہیں کہ تفسیر کی نسبت گفتگو کروں اور اس کے اعجاز کے پہلوؤں پر بحث کروں وہ انشاء اللہ ۲۵ تک حسب وعدہ شائع ہو جائے گی۔سنت اللہ کے موافق سعید اُسے معجزہ اور آیتہ اللہ سمجھ کر خدا کے نور کو پہچان لیں گے اور شقی اُسی کنوئیں میں گریں گے جو ان کے اشباہ وامثال کے لئے موعودوں کے ہر زمانہ میں تیار ہوا ہے۔میرا مقصد اس وقت یہ ہے کہ میں اپنے ان دوستوں کو حضرت مامور کی استقامت اور اخلاص کی کیفیت کا نقشہ دکھاؤں جو قدرت کی تقدیروں سے اس نظارہ کے