حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 125 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 125

حیات احمد ۱۲۵ جلد پنجم حصہ دوم یہ سب کچھ ہوا مگر پیر صاحب پر کچھ اثر نہ ہوا اور انہوں نے میدان مقابلہ میں نہ آنا تھا نہ آئے۔میں نے واقعات کو من و عن پیش کر دیا ہے تا کہ ہر سلیم الفطرت انسان خود نتیجہ پر پہنچ سکے۔فتح وشکست کا سوال واقعاتی صورت سے پیدا ہوتا ہے مگر اس سے الگ رہ کر اصل منشاء احقاق حق تھا۔اعجاز المسیح کن حالات میں لکھی گئی اعجاز المسیح کے ذریعہ علمی اور قرآن دانی کا اعجاز ظاہر ہوا وہ بجائے خود اس کے لا جواب رہ جانے اور مقابلہ میں کسی کے نہ آنے سے بھی ثابت ہے مگر اس اعجاز کی امتیازی خصوصیت کا مقام اور بھی بڑھ جاتا ہے جبکہ یہ دیکھا جاوے کہ یہ تالیف کن حالات میں لکھی گئی اس کے لئے میں اخبار الحکم ۳ مارچ ۱۹۰۱ء سے حضرت مولا نا عبد الکریم رضی اللہ عنہ کے ایک خط سے کچھ اقتباس دیتا ہوں۔اخوانی _ اَلسَّلامُ علیکم و رحمةُ اللهِ وَبرکاتہ کئی دفعہ میری روح میں زور دار تحریک ہوئی کہ ان اثروں اور نقشوں پر کچھ لکھوں اور بھائیوں کو مستفید و مسرور کروں جو اس چلہ میں حضرت موعود علیہ السلام کی زندگی کے خاص اور بالکل نئے حصہ کے مشاہدہ سے میرے حق جو حق بین، حق گو قلب پر وارد اور متنقش ہوئے ہیں۔پیر گولڑی کے مقابل تفسیر لکھنے کی میعاد (۷۰) دن ٹھہری تھی۔اس بڑی ہی تھوڑی میعاد میں سے بھی جو اصلاً اور حقیقہ سورہ فاتحہ کی عربی فصیح میں غیر مسبوقہ حقائق کے ساتھ تفسیر لکھنے کے لئے نہایت غیر مکفی تھی پورے تمہیں دن حضرت حجتہ اللہ علیہ السلام نے یوں منہا کر دیئے کہ اس اثنا میں آپ کے دست و قلم میں خالص منافرت رہی ایک نقطہ تک نہ تو لکھا اور نہ اس غیر مامور کو جگہ سے ہلا دینے والے کام کی نازک ذمہ واری کی طرف کچھ توجہ ہی کی۔پورے ایک مہینہ کے بعد جب لکھنے کا ارادہ کیا معاً بَردِ اطراف اور ضعف کے اس قدرمتواتر دورے پڑنے شروع ہوئے کہ بسا اوقات پر دل امید زندگی کے چراغ کو شمع سحری کی طرح ٹمٹا تا دیکھ کر یاس کے تاریک کونے میں سرنگوں بیٹھ جاتی تھی۔میں نے دس سال میں اس قدر اتصال اور ہجوم ان ہولناک امراض کا نہیں دیکھا تھا۔صحت کا یہ حال اور وعدہ اس قدر مضبوط منجانب اللہ ہونے۔مُؤَيَّد مِنَ الله