حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 3
حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّيْ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ عرض حال اللہ تعالیٰ ہی سزاوار حمد ہے اور اسی کا شکر مقصد حیات ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذکر کو میں عبادت سمجھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا يَرْفَعُ اللَّهُ ذِكْرَكَ یعنی اللہ تعالیٰ تیرے ذکر کو بلند کرے گا پس آپ کے حالات کا تذکرہ اس منشاء الہی کو پورا کرنے کے ثواب کا مستحق بنا دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آغاز شباب سے مجھے اس نعمت سے نوازا کہ میں آپ کے ذکر کو بلند کر سکوں۔اس وقت تک کہ میں اپنی عمر کے شمسی ۸۳ اور قمری ۸۶ سال پورے کر چکا ہوں مجھے اس نعمت سے محروم نہیں فرمایا گزشتہ سال جب عہد جدید کی دوسری جلد شائع ہوئی تو میں توقع کرتا تھا کہ دسمبر ۱۹۵۴ء تک ایک اور جلد شائع کر سکوں گا مگر حالات نے مساعدت نہ کی اور کچھ میری علالت نے موقع نہ دیا اور پورے سال بعد یہ جلد شائع کرنے کے قابل ہوسکا عہد جدید کے اس تالیف کے سلسلہ کی اشاعت میں حضرت سیٹھ شیخ حسن احمدی اور حضرت سیٹھ محمد حسین صاحب رضی اللہ عنہما نے اس کام میں اعانت کی اور معین الدین صاحب ساتھ دے رہے ہیں اور حضرت سیٹھ عبد اللہ بھائی صاحب سَلَّمَهُ اللهُ تَعَالیٰ تو ابتدا ہی سے خاص معاون ہیں اور عزیز مکرم سید حسین صاحب ابتداء سے شریک اعانت ہیں عزیز مکرم مولوی محمد اسماعیل فاضل وکیل ہائی کورٹ اور مولوی محمد عبد اللہ بی۔ایس۔سی۔ایل۔ایل۔بی کا مادی اور اخلاقی امداد کے لیے دائماً شکر گزار ہوں اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں پر بیش از بیش اپنے دریائے رحمت کو کشادہ کرے۔اب تک میں نے اس تالیف میں اس امر کو مد نظر رکھا تھا کہ آنے والے مورخ کے لیے میں اسے بطور ریفرنس بک کے بنادوں لیکن اب یہ تقاضائے عمر میں چاہتا ہوں کہ اسے پورا کرنے کی توفیق پاسکوں میں تفصیلات میں نہیں جاؤں گا واقعات کو مختصر کرنے کی کوشش کروں گا۔تا کہ اوّل تو ایک ہی جلد میں غایت کار دو جلدوں میں ختم کر سکوں۔وَ بِاللهِ التَّوْفِيقِ