حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 100
حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم المنار بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم قاہرہ سے ایک اخبار نکلتا ہے جس کا نام منار ہے جب فروری ۱۹۰۱ء میں ہماری طرف سے پیر گولڑی صاحب کے مقابل پر رسالہ اعجاز المسیح لکھا گیا جو نصیح بلیغ عربی میں ہے اور اس کے جواب سے نہ صرف پیر صاحب موصوف عاجز رہ گئے بلکہ پنجاب اور ہندوستان کے تمام علماء بھی عاجز آگئے تو میں نے مناسب سمجھا کہ اس رسالہ کو بلا د عرب یعنی حرمین اور شام اور مصر وغیرہ میں بھی بھیج دوں کیونکہ اس کتاب کے صفحہ ۱۵۲ میں جہاد کی مخالفت میں ایک مضمون لکھا گیا ہے اور میں نے بائیس برس سے اپنے ذمہ یہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتا ہیں جن میں جہاد کی ممانعت ہو اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں اسی وجہ سے میری عربی کتابیں عرب کے ملک میں بھی شہرت پاگئی ہیں۔جو لوگ درندہ طبع ہیں اور جہاد کی مخالفت کے بارے میں میری تحریریں پڑھتے ہیں وہ فی الفور چڑ جاتے ہیں اور میرے دشمن ہو جاتے ہیں مگر جن میں انسانیت ہے وہ معقول بات کو پسند کر لیتے ہیں۔پھر دشمنی کی حالت میں کون کسی کی کتاب کی تعریف کر سکتا ہے۔سو اسی خیال سے یہ رسالہ کئی جگہ مصر میں بھیجا گیا۔چنانچہ منجملہ ان کے ایڈیٹر المنار کو بھی پہنچا دیا گیا تا اس سے جہاد کے غلط خیالات کی بھی اصلاح ہو۔اور مجھے معلوم ہے کہ اس مسئلہ جہاد کی غلط فہمی میں ہر ایک ملک میں کسی قدر گروہ مسلمانوں کا ضرور مبتلا ہے بلکہ جو شخص سچے دل سے جہاد کا مخالف ہو اس کو یہ علماء کا فر سمجھتے ہیں بلکہ واجب القتل بھی۔لیکن چونکہ اسلام کی تعلیم میں یہ بات داخل ہے کہ جو شخص انسان کا شکر نہیں کرتا وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرتا اس لئے ہم لوگ اگر ایمان اور تقویٰ کو نہ چھوڑ میں تو