حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 96
حیات احمد ۹۶ جلد پنجم حصہ دوم لکھ دیتے مگر ادھر تو کوئی آیا نہیں نہ ہندوستان میں کسی کو ہمت ہوئی نہ عرب اور دوسرے ممالک اسلامیہ میں۔غرض اس کتاب کو حضرت اقدس نے مصر ، عرب اور شام اور دوسرے اسلامی ممالک میں بھی بھیجا۔اس وقت ہندوستان میں انگریزی حکومت تھی اور حضرت اقدس کی تعلیم اپنی جماعت کے لئے یہ تھی کہ وہ جس حکومت کے ماتحت ہوں اس کے قوانین کی جو اسلام کے خلاف نہ ہوں پابندی کریں اور کسی ایسی تحریک میں حصہ نہ لیں جو حکومت سے بغاوت کا رنگ رکھتی ہو۔ہندوستان میں چونکہ مسلمانوں کو فرائض مذہبی کے ادا کرنے میں آزادی تھی اور اشاعت اسلام کے لئے کبھی اسلام نے تلوار اٹھائی نہیں اس لئے مسئلہ جہاد کی حقیقی روح کی طرف آپ نے ہمیشہ توجہ دلائی۔الفاظ پرست اور حقائق سے بے خبر مولوی اس حقیقت کو سمجھتے نہ تھے وہ جہاد بالسیف ہی کے قائل تھے اس مسئلہ پر بھی آپ نے روشنی ڈالی تھی اور اپنی ہر تالیف میں اس کو زیر نظر رکھتے تھے آپ حقائق و معارف اور دلائل اور تائیدات ربانی کے ذریعہ اشاعت اسلام کے لئے سینہ سپر تھے بہر حال اس کتاب کو مصر اور دوسرے اسلامی ممالک میں بھیجا کسی اور کو تو جرات نہ ہوئی مگر رشید رضا نے اپنے پندرہ روزہ المنار میں مخالفت کی۔حالانکہ دوسرے اخبارات کو بھی اعجاز المسیح “ بھیجا گیا تھا ان میں سے عیسائی مشہور رسالہ ھلال نے تو با وجود دشمن اسلام ہونے کے اس کی بہت تعریف کی اور ان دنوں هلال کل اسلامی دنیا میں مشہور رسالہ تھا ایسا ہی رسالہ المناظر نے بھی تعریف کی مگر یہ بد قسمتی رشید رضا کے حصہ میں آئی کہ وہ صف مقابلہ میں آکھڑا ہوا اور خود اپنے ہاتھ سے اپنی ذلّت کی قبر کھودی۔حضرت اقدس کا معمول تھا کہ وہ ایسے اعتراضات ( جو غلط فہمی پیدا کرتے ہوں ) کے متعلق قلم اٹھانے میں ہر وقت تیار رہتے تھے۔چنانچہ رشید رضا کے مقابلہ میں آپ نے المنار کے عنوان سے اسی ۱۸/ نومبر ۱۹۰۱ ء کو ایک اشتہار شائع کیا اور راقم الحروف (عرفانی) نے اس اعلان کی اشاعت کے وقت اخبار میں تمہیدی نوٹ لکھا جو ۳۰ رنومبر ۱۹۰۱ء کے الحکم میں اسے شائع کیا اور وہ یہ ہے۔