حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 95
حیات احمد ۹۵ جلد پنجم حصہ دوم نہیں ہو سکتی کوئی اور صاحب اگر لکھیں تو عورتوں کو فائدہ پہنچ جاوے اس پر خلیفہ رشیدالدین صاحب نے عرض کیا کہ مرزا خدا بخش صاحب لکھیں۔مرزا صاحب بھی شاید کسی وقت اگر انہیں فرصت ملے تو لکھیں مگر سر دست حضرت اقدس کی خواہش کے پورا کرنے کے خیال سے خاکسار ایڈیٹر نے ایک مختصر سا قصہ سِلْک مَرُوَارِید ( موتیوں کی لڑی) کے نام سے لکھنا شروع کر دیا ہے۔اسی کا کسی قدر حصہ حضرت اقدس کو سنایا بھی گیا۔“ (الحکم مورخه ۳۰ /نومبر ۱۹۰۱ء صفحه او۲) (۲) ایڈیٹر المنار ( قاہرہ) کو چینج اعجاز المسیح کی اعجازی اشاعت کا ذکر پہلے کر آیا ہوں اس کے متعلق بعض تفصیلات آگے بھی آئیں گی جہاں پر پیر گولڑوی کے ذریعہ اس کا اعجاز عظیم ظاہر ہو گیا۔یہاں آج اس کا ذکر ( ۱۸ نومبر ۱۹۰۱ء) اعجازی اہمیت کی وجہ سے کر رہا ہوں مصری رسالہ المنار کا ایڈیٹر سید رشید رضا تھا اور مصر اور دوسرے بلاد عر بیہ میں اس کے زور قلم اور علم وفضل کا سکہ بیٹھا ہوا تھا۔اس کے سر پر جب تکبر ونخوت کا جن سوار ہوا تو اس نے اعجاز المسیح پر نکتہ چینی کا قلم اٹھایا۔مطالبہ تو یہ تھا کہ ایسی فصیح و بلیغ زبان میں سورہ فاتحہ کے نادر حقائق بیان کئے جاویں اور یہ اذن عام تھا کہ اپنے گھر میں بیٹھ کر اپنے دوستوں اور عالم اسلام کے عرب ادیبوں اور فاضلوں سے مدد لے کر لکھو اور پھر مقابلہ کرو ایک مدت معینہ کے اندر رشید رضا صاحب تو خود اہل زبان اور ان میں بھی علم النفسیر میں مشہور تھے اس لئے کہ وہ مفتی عبدہ کے اسی طرح ممتاز شاگرد تھے جیسے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سید نذیر حسین صاحب دہلوی کے شاگرد تھے اور جس طرح پر یہ لاڈلے شاگر د حضرت کے مقابلہ میں رسوا ہوئے اور اسی طرح اس مقابلہ میں رشید رضا کو شرمندہ ہونا پڑا۔قارئین کرام غور کریں کہ مطالبہ تو تفسیر نویسی کا ہے اور جواٹھتا ہے وہ اپنی ساری طاقت اس امر پر مبذول کر دیتا ہے کہ اس میں غلطیاں ہیں چاہیے تو یہ تھا که تفسیر بالمقابل شرائط کے موافق لکھتے اگر ان کے زعم باطل میں زبان کی غلطیاں ہوتیں تو ان کو بھی