حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 83 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 83

حیات احمد ۸۳ جلد پنجم حصہ اول ہے اور یہ بھی ہدا یتیں اُن طبی قواعد کے بھی بالکل مطابق ہیں جنہیں ہر ایک عقلمند اپنی اور اپنے ملک کی بہبودی کا یقین رکھتا ہے۔اور یہ بھی فرمایا کہ یہ نہایت درجہ کا ظلم اور سخت گناہ اور ناشکر گزاری ہے کہ گورنمنٹ تو تمہارے لئے اور تمہاری عافیت اور صحت کے لئے لکھوکھا روپیہ انتظام دفع طاعون کی تدا بیر میں خرچ کرے اور بہت سا حصہ اپنے افسروں اور دیگر ملازموں کا اس کام میں لگا دے تا تم کسی طرح اس بلا سے بچو اور تم بجائے شکر کے شکایت کرو یہ کیسا کفران نعمت اور گند کی بات ہے ہاں یہ بیچ ہے کہ گورنمنٹ کی ہدایتوں میں سے ایک ضروری ہدایت یہ بھی ہے کہ جس گھر میں واردات طاعون ہو جاوے وہ لوگ اور ایسا ہی ان کے ہمسائے جہاں تک مناسب ہو اس گھر سے باہر کئے جائیں اور بیماروں کو کسی پر فضا میدان میں الگ رکھا جاوے اور تندرستوں کو الگ لیکن یادر ہے اور خوب یادر ہے کہ یہ ہدایت سراسر طبی قواعد کے مطابق ہے۔بوعلی سینا جو ایک بڑا طبیب اسلام میں گزرا ہے اس نے بھی یہی ہدایتیں لکھی ہیں اور خود انسان اضطراراً ان ہدایتوں پر عمل کرنے کے لئے مجبور ہو جاتا ہے اور ہونا پڑتا ہے کیونکہ جس گھر میں چند وارداتیں ہو جائیں اور چند موت کے وقوعے مشاہدہ ہوں تو پھر ایسے ڈرانے والے گھر میں کون رہ سکتا ہے اور ہماری گورنمنٹ اس سے بے خبر نہیں ہے کہ کس قدر یہ ملک پردہ داری کا پابند ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ گورنمنٹ ان باتوں کا بہت ہی لحاظ رکھے گی مگر تاہم یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جس طرز اور جس حد تک عوام نے اسلامی پردہ داری کو سمجھا ہے درحقیقت اس حد تک اسلامی شریعت کا منشا بھی ہے۔بیماری کے وقت کسی طبیب کو نبض دکھانا حرام نہیں ہے ضرورت کے وقت اجنبی کو اس کے سوال کا جواب دینا ممنوعات میں داخل نہیں ہے ایسا ہی ضرورت اور مجبوری کے وقت نیک بخت بیبیوں کا اپنے گھر سے برقع یا چادر کے پردہ کے ساتھ باہر جانا کچھ گناہ کی بات نہیں۔علاوہ اس کے شریعت اسلام کا بھی یہی حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ لا یعنی تم دانستہ اپنے ہاتھوں سے ہلاکت کی راہوں کومت اختیار کرو۔سو جس گھر میں وبا پھوٹے اور ایک دو موتیں ہونے لگیں اس میں قیدیوں کی طرح پڑے رہنا یہ بھی دراصل آپ ہلاکت کی راہ اختیار کرنا ہے۔طبری کی تاریخ میں جس کی تالیف کو بھی البقرة : ١٩٢