حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 80
حیات احمد ۸۰ ۲ مئی ۱۸۹۸ء کی روئداد ۲ رمئی ۱۸۹۸ء کی روئداد الحکم میں اس نوٹ کے ساتھ شائع ہوئی۔جلد پنجم حصہ اول آج عید کا مبارک و مسعود دن تھا۔معزز مہمان نہایت کثرت سے راتوں رات دارالامان آپہنچے تھے اور آج ہی وہ مبارک دن تھا جبکہ اپنے اصلی معنوں میں جلسہ طاعون کا افتتاح ہونے والا تھا بہر حال ۸ بجے کے قریب جوق در جوق لوگ ایک بڑے عظیم الشان بڑ کے درخت کے نیچے جمع ہونے لگے۔جو قادیان سے مشرقی جانب واقع ہے۔جلسہ میں شریک ہونے والے لوگوں کی تعداد ہزار کے قریب ہوگی مگر باہر سے جو اصحاب آئے تھے ان کی تعداد قریباً چار پانچ سو کے مابین ہوگی نوبجے کے قریب جناب مولانا مولوی عبدالکریم صاحب فاضل سیالکوٹی نے نماز عید پڑھائی جس وقت درد دل کے ساتھ نماز میں رفع طاعون کے لئے دعا مانگی گئی وہ ایک خاص اثر اپنے اندر رکھتا تھا۔بعد نماز جناب امامنا وامام المسلمین سید نا مرزا غلام احمد صاحب ایدہ بنصرہ رئیس اعظم نے کھڑے ہوکر مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔پوری تقریر الانذار میں شائع ہو چکی ہے۔اس حقانی تقریر کے وقت جو ایک مقدس اور راستباز اور بنی نوع انسان کے حقیقی بہی خواہ کے مبارک ہونٹوں سے بچی خیر خواہی اور حقیقی غم گساری کی بناء پر نکل رہی تھی حاضرین پر اللہ کریم کے جلال و جبروت کا ایسا اثر تھا کہ سب کے سب تصویر صورت خاموش سُن رہے تھے اور بعض کا تو یہ حال تھا کہ جہاں عذاب الہی کا ذکر آتا اور پھر اس راست باز کے خاص لہجہ سے وہ ادا ہوتا تو بے اختیار چلا اٹھتے تھے۔آخر دو اڑھائی گھنٹہ کی متواتر تقریر کے بعد حضرت اقدس نے اپنے بیان کو جس میں ایک قدرتی تموج اور زور تھا بند کیا اور پھر دفع طاعون کے لئے حضور نے دعا مانگی اور جلسہ برخاست ہوا۔اس جلسہ کا حاضرین پر کیا اثر ہوا اور ملک کے لئے وہ کس قدر مفید ثابت ہوا اور یا گورنمنٹ نے اس کوکس نگاہ سے دیکھا۔“ کی گئی۔اس جلسہ کی مختصر کارروائی مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کے نام سے حسب ذیل شائع