حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 79 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 79

حیات احمد ۷۹ جلد پنجم حصہ اول ٹوٹ گیا تو انہوں نے آتھم کی بیوی اور داماد جیسے گواہ بھی پیش کئے پس میری رائے یہی ہے اور میرے دل کا فتویٰ یہی ہے کہ اس کا دندان شکن جواب نہایت نرمی اور ملاطفت سے دیا جاوے پھر خدا چاہے گا تو ان کو خود ہی جرات نہ ہوگی۔اس پر بالا تفاق یہ تجویز ہوئی کہ حضرت اقدس اپنی عظیم الشان اور کثیر التعداد جماعت کی طرف سے یہ میموریل ہر اونر لیفٹیننٹ گورنر صاحب پنجاب کی خدمت میں روانہ فرما دیں۔اس کے بعد جناب مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے بحضور جناب امام ہمام علیہ الصلواة والسلام التماس کی کہ چونکہ کل عید کی وجہ سے اور جلسہ طاعون کے متعلق حضور کی تقریر ہوگی اور مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے مصروفیت بڑھ جائے گی اس لئے اب ان لوگوں کو جو سلسلہ بیعت میں شامل ہونا چاہتے ہیں داخل بیعت فرما یا جاوے جس کو حضرت نے منظور فرمایا۔اس کے بعد اُن احباب کے اسماء گرامی درج ہیں جنہوں نے یکم مئی ۱۸۹۸ء کو بیعت کی ان بزرگوں میں چراغ دین صاحب رضی اللہ عنہ اور ان کے دو صاحبزادوں کے نام بھی درج ہیں اور میاں محمد سلطان صاحب مرحوم مشہور ٹھیکہ دار اور رئیس لاہور کے فرزند میاں فیروز الدین بھی شامل ہیں اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنے برکات نازل کرے۔میاں چراغ دین صاحب کے خاندان کے آدم سلسلہ بیعت میں مکرم حکیم مریم عیسی اور مرحوم میاں عبدالعزیز عرف مغل رضی اللہ عنہ ہیں۔مشورہ طلب کیا جیسا کہ اوپر درج ہے حضرت اقدس نے میموریل پڑھے جانے کے بعد ا ظہار رائے کا موقعہ دیا اور احباب کی رائے پر غور کیا اور جماعت کے مشورہ کے بعد میموریل مذکور شائع کیا گیا اور حکومت کو بھیج دیا گیا اس روئداد سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس کا شَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ پر کیسا عمل تھا اور یہ طریق عمل آپ کا مدة العمر جاری رہا اس مجلس میں احباب نے حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین صاحب سے قرآن کریم سننے کی حضرت کے حضور درخواست کی حضرت کے ارشاد پر حضرت حکیم الامت نے سورۃ النمل کے ایک رکوع کا درس دیا جوالانذار میں خاکسار نے شائع کر دیا۔