حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 73 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 73

حیات احمد ۷۳ جلد پنجم حصہ اول نہ جائے مذہبی آزادی کا دروازہ کسی حد تک کھلا رہنا ضروری ہے تا مذ ہبی علوم اور معارف میں لوگ ترقی کریں اور چونکہ اس عالم کے بعد ایک اور عالم بھی ہے جس کے لئے ابھی سے سامان چاہیے اس لئے ہر ایک حق رکھتا ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ ہر ایک مذہب پر بحث کرے اور اس طرح اپنے تئیں اور نیز بنی نوع کو نجات اخروی کے متعلق جہاں تک سمجھ سکتا ہے اپنی عقل کے مطابق فائدہ پہنچا وے لہذا گورنمنٹ عالیہ میں اس وقت ہماری یہ التماس ہے کہ جو انجمن حمایت اسلام لا ہور نے میموریل گورنمنٹ میں اس بارے میں روانہ کیا ہے وہ ہمارے مشورہ اور اجازت سے نہیں لکھا گیا بلکہ چند شتاب کاروں نے جلدی سے یہ جرات کی ہے جو درحقیقت قابل اعتراض ہے ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ ہم تو جواب نہ دیں اور گورنمنٹ ہمارے لئے عیسائی صاحبوں سے کوئی باز پرس کرے یا ان کتابوں کو تلف کرے بلکہ جب ہم ہماری طرف سے آہستگی اور نرمی کے ساتھ اس کتاب کا رڈ شائع ہوگا تو خود وہ کتاب اپنی قبولیت اور وقعت سے گر جائے گی اور اس طرح پر وہ خود تلف ہو جائے گی۔اس لئے ہم بادب ملتمس ہیں کہ اس میموریل کی طرف جو انجمن مذکور کی طرف سے بھیجا گیا ہے گورنمنٹ عالیہ ابھی کچھ توجہ نہ فرمادے کیوں کہ ہم گورنمنٹ عالیہ سے یہ فائدہ اٹھا دیں کہ وہ کتابیں تلف کی جاویں یا کوئی اور انتظام ہو تو اس کے ساتھ ایک نقصان بھی ہمیں اٹھا نا پڑتا ہے کہ ہم اس صورت میں دین اسلام کو ایک عاجز اور فروماندہ دین قرار دیں گے کہ جو معقولیت سے حملہ کرنے والوں کا جواب نہیں دے سکتا۔اور نیز یہ ایک بڑا نقصان ہوگا کہ اکثر لوگوں کے نزدیک یہ امر مکروہ اور نامناسب سمجھا جائے گا کہ ہم گورنمنٹ کے ذریعہ سے اپنے انصاف کو پہنچ کر پھر کبھی اس کتاب کا ر ڈ لکھنا بھی شروع کر دیں۔اور درحالت نہ لکھنے جواب کے اس حاشیہ۔ہم دوبارہ عرض کرتے ہیں کہ انجمن کا یہ میموریل بعد از وقت ہے کیونکہ مؤلف امہات المومنین کی طرف سے جو ضرر روکنے کے لائق تھا وہ تو ہمیں پہنچ چکا اور پورے طور پر پنجاب ہندوستان میں اس کتاب کی اشاعت ہوگئی سو ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اب ہم گورنمنٹ محسنہ سے کیا مانگیں اور وہ کیا کرے۔