حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 68
حیات احمد ۶۸ جلد پنجم حصہ اول اول یہ کہ خدا تعالیٰ کو واحد لاشریک اور ہر ایک منقصت موت اور بیماری اور لا چاری اور درد اور دکھ اور دوسری نالائق صفات سے پاک سمجھنا۔دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ کے سلسلہ نبوت کا خاتم اور آخری شریعت لانے والا اور نجات کی حقیقی راہ بتلانے والا حضرت سیدنا ومولا نا محد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین رکھنا۔تیسرے یہ کہ دینِ اسلام کی دعوت محض دلائل عقلیہ اور آسمانی نشانوں سے کرنا اور خیالات غازیانہ اور جہاد اور جنگجوئی کو اس زمانہ کے لئے قطعی طور پر حرام اور ممتنع سمجھنا اور ایسے خیالات کے پابند کو صریح غلطی پر قرار دینا۔چوتھے یہ کہ اس گورنمنٹ محسنہ کی نسبت جس کے ہم زیر سایہ ہیں۔۔خلوص دل سے اس کی اطاعت میں مشغول رہنا۔پانچویں یہ کہ بنی نوع انسان سے ہمدردی کرنا اور حتی الوسع ہر ایک شخص کی دنیا اور آخرت کی بہبودی کے لئے کوشش کرتے رہنا اور امن اور صلح کاری کا مؤید ہونا اور نیک اخلاق کو دنیا میں پھیلانا۔یہ پانچ اصول ہیں جن کی اس جماعت کو تعلیم دی جاتی ہے اور میری جماعت جیسا کہ میں آگے بیان کروں گا جاہلوں اور وحشیوں کی جماعت نہیں ہے بلکہ اکثر اُن میں سے اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ اور علوم مروجہ کے حاصل کرنے والے اور سرکاری معزز عہدوں پر سرفراز ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے چال چلن اور اخلاق فاضلہ میں بڑی ترقی کی ہے۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۱۹۵ تا ۱۹۷ طبع بار دوم ) احمد شاہ شایق کی دلآزار تصنیف اور حضرت اقدس اس میموریل میں احمد شاہ شایق کی دل آزار کتاب امهــات الـمـؤمـنـيـن کا ذکر بھی آیا ہے احمد شاہ کشمیری مرتد تھا جو جگر اؤں ضلع لودہانہ میں مشنری تھاراقم الحروف کو بارہا اس سے ملنے کا اتفاق ہوا۔اس لئے کہ ضلع لودہانہ کے بعض نوجوانوں کو اس نے اسلام سے مرتد کرایا تھا۔اور میں ان لوگوں سے اپنے علم و فہم کے موافق مباحثات کرتارہتا تھا۔جن میں سے طالب دین اور غلام مسیح مشہور تھے یہ شخص نہایت بد زبان تھا۔اس نے اُمہات المؤمنین کے نام سے ایک کتاب لکھی۔جو گوجرنوالہ