حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 67 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 67

حیات احمد 72 جلد پنجم حصہ اول جگہ کام آسکے۔سلسلہ کے آغاز کے وقت ہندوستان میں انگریزی حکومت تھی اور دشمنانِ سلسلہ حکومت کو بدظن کرنا چاہتے تھے اس لئے حضرت اقدس نے اس میموریل میں اپنی اور جماعت کی سیاسی پوزیشن کو صاف کیا چنا نچہ فرماتے ہیں۔میں گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ فرقہ جدیدہ جو برٹش انڈیا کے اکثر مقامات میں پھیل گیا ہے جس کا میں پیشوا اور امام ہوں گورنمنٹ کے لئے ہرگز خطرناک نہیں ہے اور اس کے اصول ایسے پاک اور صاف اور امن بخش اور صلح کاری کے ہیں کہ تمام اسلام کے موجودہ فرقوں میں اس کی نظیر گورنمنٹ کو نہیں ملے گی جو ہدا یتیں اس فرقہ کے لئے میں نے مرتب کی ہیں جن کو میں نے ہاتھ سے لکھ کر اور چھاپ کر ہر ایک مُرید کو دیا ہے کہ ان کو اپنا دستور العمل رکھے۔وہ ہدایتیں میرے اُس رسالہ میں مندرجہ ہیں جو ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء میں چھپ کر عام مریدوں میں شائع ہوا ہے جس کا نام تکمیل تبلیغ مع شرائط بیعت ہے جس کی ایک کاپی اُسی زمانہ میں گورنمنٹ میں بھی بھیجی گئی تھی ان ہدایتوں کو پڑھ کر اور ایسا ہی دوسری ہدایتوں کو دیکھ کر جو وقتا فوقتا چھپ کر مریدوں میں شائع ہوتی ہیں گورنمنٹ کو معلوم ہوگا کہ کیسے امن بخش اصولوں کی اس جماعت کو تعلیم دی جاتی ہے۔ہاں میں اپنے نفس کے لئے اس مسیح موعود کا ادعا کرتا ہوں جو حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح غربت کے ساتھ زندگی بسر کرے گا اور لڑائیوں اور جنگوں سے بیزار ہوگا اور نرمی اور صلح کاری اور امن کے ساتھ قوموں کو اس بچے ذوالجلال خدا کا چہرہ دکھائے گا جو اکثر قوموں سے چُھپ گیا ہے میرے اصولوں اور اعتقادوں اور ہدایتوں میں کوئی امر جنگجوئی اور فساد کا نہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔میں بار بار اعلان دے چکا ہوں کہ میرے بڑے اصول پانچ ہیں۔