حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 62 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 62

حیات احمد ۶۲ جلد پنجم حصہ اول بہتر اور صورت ممکن نہیں۔اور اس کے لئے ہم سب کا فرض ہے کہ گورنمنٹ عالیہ کی تدابیر پر عمل کرنے اور کرانے میں اس کی مدد کریں کیونکہ وہ رعیت ہی کی بھلائی کے لئے دل سوزی سے تدبیر کرتی اور تکالیف اٹھاتی ہے اس لئے ہر متنفس کا فرض ہے کہ وہ جس طرح ہو سکے اس کام میں گورنمنٹ کو مدد دیں اور بدظنی اور بدگمانی سے لوگوں کو بچاویں جوان کی ہلاکت کا موجب ہوسکتی ہے کیونکہ مریض کو لازم نہیں کہ ڈاکٹر کی رائے کا سقم دریافت کرتا پھرے۔سانپ جب آستین میں گھس جاوے تو اس کو نکالنے اور مارنے کی فکر کرنا ضروری ہے نہ اُن اسباب پر بحث کرنی کہ کیوں گھس آیا۔پس مریض اگر ڈاکٹر پر یا بچہ اپنی ماں پر بدگمانی اور بدظنی کرے تو وہ شفا نہیں پاسکتا۔اور پرورش حاصل نہیں کر سکتا۔اس لئے گورنمنٹ کی تدابیر سننے پر بے جا نکتہ چینی بھی نہیں چاہیے البتہ یہ گورنمنٹ خوب جانتی ہے کہ پلیگ ڈیوٹی پر کیسے با اخلاق انسان متعین ہونے چاہئیں اور وہ خود انسانی ہمدردی کے لحاظ سے اچھا سلوک کرنے کے لئے تیار ہوں گے یا ان کو ہونا چاہیے۔دوسرے چونکہ عام اندیشہ انتشار وباء کا ہے اس لئے پاک تبدیلی کی ضرورت ہے۔ہم نہیں سمجھتے کوئی معقول آدمی اس امر کو بُرا سمجھے کون نہیں چاہتا کہ لوگ نیک اخلاق اور خوش معاملہ بنیں اور خدا تعالیٰ کے ساتھ عبودیت والا تعلق پیدا کریں اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جب انسان برائیوں اور بداطوار یوں سے توبہ کرلے گا اور پاکیزہ اخلاق اور قابل شریف چال چلن اختیار کرے گا اور پھر وباء کے پھیلنے کی صورت میں اُس کے اخلاق و عادات اُس کو بنی نوع انسان کی ہمدردی پر مجبور کریں گے وہ گورنمنٹ برطانیہ کی سچی عظمت اور قدر کر سکے گا اور اُس کی مجوزہ تدابیر سے فائدہ اٹھالے گا۔اور ان ساری باتوں کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کو بلا وجہ بدظنی کرنے کا مادہ پیدا نہ ہوگا۔جس سے وہ ان تدابیر سے فائدہ اٹھائے گا جو گورنمنٹ نے بڑی دوراندیشی سے وضع کی ہیں۔پس یہ دوامر ہیں جو بطور روح رواں کے ہیں۔اس لئے ان باتوں پر استہزا