حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 59 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 59

حیات احمد ۵۹ جلد پنجم حصہ اوّل اب ان مقدس آیات پر غور کرنے سے بخوبی معلوم ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ اور اطاعت اور رجوع الی اللہ سے عذاب الیم کو ٹلا دیتا ہے اور دردناک موت سے جو قبل از وقت بصورت عذاب آجاتی ہے بچالیتا ہے ہمارا خیال ہے کہ ان آیات ہی پر غور مزید کر کے مزید العمر کا اصول اور مسئلہ نکالا گیا ہے جس کو کسی دوسرے وقت پر فلسفیانہ رنگ میں ہم بیان کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اب پیسہ اخبار کا یہ کہنا کہ رویاء صادقہ میں قضائے مبرم ہی دکھائی جاتی ہے یہ بداہت باطل ثابت ہوتی ہے۔ہم کو افسوس تو یہ ہے کہ پیسہ اخبار باوجود مسلمان ہونے کے ایک ایسے مہتم بالشان مسئلہ کے خلاف چلا ہے جس پر ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ایمان بالرسالت کا دارو مدار ہے ہم کو پیسہ اخبار سے امید کرنی چاہیے کہ وہ اپنی اس عظیم الشان غلطی کی اصلاح کرلے گا اور بذریعہ اخبار اس کو شائع کر دے گا تا کہ اُس کی ۱۵ / فروری والی تحریر کسی سادہ لوح کے لئے ٹھوکر کا موجب ہو کر اس کے عذاب کا باعث نہ ہو جاوے۔امر پنجم کی نسبت اب ہم نہیں سمجھتے کہ مندرجہ بالا امور کی توضیح کے بعد بھی وقت باقی رہے پیسہ اخبار کی یہ غلطی ہے کہ سید نا مرزا صاحب نے وبا کا آنا یقینی طور پر مان لیا ہے اور اس کو قضاء مبرم سمجھ کر پھر صدقات اور پاک تبدیلی کی تعلیم دی ہے۔سید نا مرزا صاحب نے جہاں اس رویا کولکھا ہے۔اُس کے ساتھ ہی اپنا رویا ختم کرتے ہی اپنا وہ الہام لکھا ہے۔جس کو ہم افسوس سے ظاہر کرتے ہیں۔پیسہ اخبار نے محرف کر دیا ہے اور اس کا ایک جزو بلکہ جزو اعظم ہضم کر لیا ہے۔جو دانشمند دیانت دار کے بدنام کرنے والی غلطی ہے۔اصل الہام یہ ہے اِنَّ اللهَ لَايُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِاَنْفُسِهِمْ إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ - آخری حصہ إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ کو پیسہ اخبار ہضم کر گیا ہے جو بہت ضروری تھا۔خیر ہم اس کو فرو گزاشت سمجھ لیں گے ہاں تو اول سید نا مرزا صاحب نے طاعون کی آمد پنجاب کو قضائے مبرم نہیں کہا قضائے معلق قرار دیا ہے اور یہ کہنا کہ ہر