حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 58 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 58

حیات احمد ۵۸ جلد پنجم حصہ اول فلسفی خوب کھول کر بیان کریں گے اس مختصر مضمون میں جو باوجوداختصار طویل ہو گیا ہے زیادہ گنجائش نہیں پاتے۔یہ ایک مسلّم بات ہے کہ انذار تخویف کے متعلق جو پیشگوئی ہوتی ہے وہ ہمیشہ مشروط ہوتی ہیں۔معاذ اللہ خدا چڑ چڑا مزاج نہیں رکھتا کہ بندوں کے استغفار اور رجوع پر بھی وہ یہی ضد کرے کہ نہیں میں تو تمہیں مار کر ہی دم لوں گا۔بلکہ وہ تَوَّابُ الرَّحِيم خدا ہے۔اور اس لئے عذاب نازل کرنے سے پیشتر اتمام حجت کرتا ہے جو اس کے کمال فضل اور رحم کی دلیل ہے۔اور یہ کہنا کہ رویاء صادقہ میں تقدیر مبرم ہی نظر آتی ہے ، بڑی بھاری غلطی ہے۔قرآن کریم اور دیگر صحفِ انبیاء اور اولیاء اللہ کے ملفوظات اور واقعات ایسی باتوں سے بھرے پڑے ہیں کہ جب کبھی عذاب اور انذار کی خبریں بذریعہ مکاشفات یا الہام، اللہ تعالیٰ نے ان پر ظاہر کی ہیں وہ کبھی بھی مبرم نہیں ہوتیں۔حضرت یونس کا قصہ اور قوم ثمود و قوم لوط اور حضرت نوح علیہ السلام کے حالات قرآن کریم میں بصراحت موجود ہیں۔پیسہ اخبار خودتد تبر کرے اور ہمارے ناظرین بھی سوچیں اور اس بات کو بہ حضور قلب یا درکھیں کہ اگر عذاب الہی اہل ہو تو پھر دنیا میں نذیروں کے آنے کا کیا فائدہ؟ کیا خدا (معاذ اللہ ) عبث کام بھی کیا کرتا ہے؟ ایسا خیال اور اعتقاد رسالت کے سلسلہ پر پانی پھیرنے والا ہوتا ہے قرآن کریم نے ان باتوں کا بڑی وضاحت سے ذکر کیا ہے ہم صرف حضرت نوح کے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں جو سورۃ نوح میں مرقوم ہے۔إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِة أَنْ أَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ قَالَ يُقَوْمٍ إِنِّى لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ - أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوْهُ وَأَطِيعُونِ - يَغْفِرُ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى اِنَّ أَجَلَ اللهِ إِذَا جَاءَ لَا يُؤْخَرُ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ - ل ا نوح : ۲ تا ۵