حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 57
حیات احمد ۵۷ جلد پنجم حصہ اول چاہتے ہیں۔کہ بقول اُستاد ذوق۔رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیر تو پیسہ اخبار یورپ کو اپنے حال پر چھوڑے اور اپنا فکر کرے۔اپنے اہل ملک کا فکر کرے۔جو فی الحال اس آفت میں مبتلا ہیں اور یا خطرہ میں ہیں۔سنن الہیہ میں سے یہ بھی ایک سنت ہے کہ جس کی نظیر عام قانون میں بھی ہم پاتے ہیں۔اگر کوئی شخص یا قوم کسی قسم کی برائیاں اپنے اندر رکھتی ہوا اور با ایں ہمہ عام خلق اللہ کو اس سے فوائد کثیر بھی پہنچتے ہوں تو وہ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهُ لے کے موافق کسی وقت تک ان کی رستگاری کا موجب ہوتے جاتے ہیں۔اس لئے اہلِ یورپ نے اہل ہند اور دنیا کو بڑے بڑے فوائد پہنچائے ہیں۔اور اُن میں سے ہی ایک ہماری گورنمنٹ ہے۔جس کے زیر سایہ ہم بہت امن و آسائش سے رہتے ہیں، پس یورپ پر سر دست عذاب نہ آنے کی یہ بھی ایک وجہ موجہ ہے۔اور ان کی نیک نیتی عام فائدہ رسانی کسی وقت مقررہ تک اس زہر کے لئے تریاق بنی ہوئی ہے جو بعض دوسری کمزوریوں سے پیدا ہوتی ہے۔اس لئے پیسہ اخبار کا ایسا خیال بالکل بے معنی ہے اور سنن الہیہ پر عدم تدبر کا نتیجہ ہے۔امر چہارم کی نسبت بھی ہم کو افسوس کرنا پڑتا ہے کہ پیسہ اخبار اس کو چہ سے ناواقف اور نابلد معلوم ہوتا ہے۔اگر اس نے مکاشفات اور رویا صادقہ کی فلاسفی اور ماہیت پر غور کی ہوتی اور غور کرنے کی کوشش کی ہوتی تو اسے یہ مصیبت پیش نہ آتی اور یا کم از کم وہ قرآن کریم ہی تدبر سے پڑھتا تو ایسی فاش غلطی نہ کھاتا۔جن لوگوں کو مکاشفات اور رویاء اور الہیات پر کوئی کتاب پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے وہ اس کی رائے پر ہنسیں گے کہ یہ پیسہ اخبار کیا کہتا ہے کہ قضاء مبرم کے سوار و یا ءِ صادقہ میں کچھ نظر ہی نہیں آتا ہم رویا ء صادقہ پر کوئی مبسوط مضمون دوسرے وقت پر لکھیں گے جس میں اس کی لى الزلزال: ٨