حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 56
حیات احمد ۵۶ جلد پنجم حصہ اول ایک ایسا امر پیش کرتا ہے جس کو شاید کوئی معمولی سمجھ کا آدمی بھی سمجھ سکتا وہ تو ایک ریفارمر اور مدبر اور سوشل اور مارل حالات پر بحیثیت ایڈیٹر گہری نگاہیں کرنے والا ہے۔کیا وہ نہیں سمجھتا کہ بدا طواری اور سیہ کاری بجائے خود کس قدر عذاب الیم ہے جس شخص کی اخلاقی حالت بگڑ جاوے اور وہ عبودیت کے درجہ سے گر جاوے اس سے بڑھ کر کون مبتلائے عذاب ہو سکتا ہے؟ علاوہ ازیں عذاب الہی کو طاعون سے مخصوص کرنا بھی ہم نہیں سمجھتے کہاں تک درست ہو سکتا ہے۔عذاب الہبی مختلف شکلیں اختیار کر لیتا ہے۔طاعون۔زلزلہ۔مسخ عادات۔قحط۔جنگیں وغیرہ وغیرہ۔بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں۔اب کیا پیسہ اخبار ۱۸۹۷ء کو مصیبتوں کا سال لکھنے والا بھول گیا کہ یورپ کس قدر مشوش رہا ہے اور ہے اور ہمارے نزدیک تو یورپ کا بدکاریوں کو بدکاری نہ سمجھنا ہی عذاب شدید ہے۔ہمارے اس فقرہ سے وہ لوگ زیادہ لطف اٹھا سکیں گے جو روحانیت اور الہیات کا کسی قدر بھی مذاق رکھتے ہوں۔یورپ کا ایک ایک ملک سخت خطرناک تشویشوں۔خطروں۔اور فکروں کا نشانہ بنا ہوا ہے اس لئے یہ کہنا کہ یورپ والے بدکاریاں کر کے بھی بچے ہوئے ہیں ٹھیک نہیں۔ہم کو رہ رہ کر افسوس آتا ہے کہ بدکاریوں پر فخر کرنا بھی کوئی راحت اور آسائش ہو سکتی ہے! کاش یہ لوگ دل رکھتے اور دیکھ سکتے کہ یہ عذاب روح کو کیا صدمہ پہنچانے والا ہے! اور ہم تو دعا کرتے ہیں کہ خدا یورپ سا عذاب کسی ملک پر نازل نہ کرے خدا شناسی اور خدا پرستی کا اٹھ جانا ابدی جہنم ہے اور یہ وہ عذاب ہے جس کا علاج ہو جانا ناممکن نہیں۔خدا یورپ کی حالت پر رحم کرے۔ان حالتوں کے بعد تباہی آجایا کرتی ہے۔پیسہ اخبار اگر دانش مند ہے تو دنیا کی مہذب اور روشن دماغ اور پھر ایسی فواحش میں مبتلا اقوام کی تاریخیں پڑھے۔یورپ کی حالت دیکھ کر ہم سچ کہتے ہیں کہ جگر پھٹا جاتا ہے اور اس کے مقابلہ میں ہند کو پھر ترجیح دیتے ہیں کہ وہ ابھی اُس دائمی اور تباہ کرنے والے عذاب میں مبتلا نہیں۔ان ساری باتوں کے علاوہ ہم یہ یہ امر بھی جتلانا