حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 52
حیات احمد ۵۲ جلد پنجم حصہ اول پیشگوئی کا پہلو نہیں رکھتی ہے۔عام آدمی بھی ایسا کہہ سکتے ہیں۔ثالثًا یورپ میں کثرتِ فواحش ہے وہاں وبا نہیں پھیلی۔گویا فواحش کی وجہ سے نہیں۔رابعًا عالم رویا صادقہ میں جو باتیں نظر آتی ہیں وہ بعد میں ضرور واقع ہوتی ہیں تقدیر معلق کے طور نہیں ہوتیں۔خامسًا سید نا مرزا صاحب کا کھجلی پیدا کرنے والی دوا کور فع طاعون کے لئے بتلانا اور پھر تو بہ واستغفار بھی بتلا نا دونوں میں سے ایک بے سود ہے۔کیونکہ اگر اول الذکر دوا فائدہ کر سکتی ہے تو پھر آخر الذکر کی کیا ضرورت على هذا القياس بصورت آخر الذکر کے درست ہونے کے اول الذکر رائیگاں ہے۔سَادِ سا سید نا مرزا صاحب کے اشتہار کا باقی حصہ بہت معقول ، مؤشر، قیمتی مشورہ اور بہت عمدہ مدلل ہے۔مندرجہ بالا چھ امر ہیں جو پیسہ اخبار کے مضمون سے بطور تلخیص ہم نے لئے ہیں اور اب ہم جدا گانہ طور پر ہر ایک پر مختصر سے ریمارک کرتے ہیں۔امر ششم چونکہ خود پیسہ اخبار کے نزدیک بہت باوقت اور معقول ہے اور وہ اُسے تسلیم کرتا ہے اس لئے اُس پر کچھ بحث کرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔امراول یعنی طاعون کا باوجود انسداد کی تدابیر پر کثرت سے توجہ کرنے کے اس کا نہ رکنا ایک ایسا امر ہے کہ اس کے پھیلنے کو لازم پڑا ہوا ہے۔اس لئے پیسہ اخبار کے زعم میں اگر کوئی شخص اس کو الہامی رنگ میں بیان کرے تو معاذ اللہ قابل پذیرائی نہیں تاہم نہایت افسوس سے ظاہر کرتے ہیں کہ پیسہ اخباراللہیات اور روحانی باتوں کی طرف توجہ نہیں کرتا یا نہیں کر سکتا۔اپنے اسی آرٹیکل کے ابتدا میں وہ تسلیم کرتا ہے کہ جالندھر کے قصبہ کھٹکر کلاں میں جب اوّل اوّل وباء پھیلی تو حکام کی پوری توجہ اور کوشش سے زیادہ زور نہ پکڑنے پائی۔اس جگہ گویا وہ گورنمنٹ کی تدابیر انسداد کی تعریف کرتا ہے اور یہ بھی جتلاتا ہے کہ تدابیر انسداد سے دوسرے لفظوں میں انسداد کلی ہو سکتا ہے مگر ہم کو افسوس ہے کہ پیسہ اخبار کی یہ تعریف نری خوشامد سمجھی جائے گی کیوں کہ بمبئی اور پونا اور شولا پور کی