حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 47 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 47

حیات احمد ۴۷ مَا يَفْعَلُ اللهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَأَمَنْتُمْ جلد پنجم حصہ اول (۱) بترسید از خدائے بے نیاز و سخت تمہارے نہ پندارم که بد بیند خدا ترسی نکو کارے ہے (۲) مرا باور نمی آید که رسوا گردد آن مردی که می تر سدازاں یارے کہ غفا رست وستارے (۳) گر آں چیزے کہ می بینم عزیزان نیز دیدند ز دنیا تو بہ کر دندے بچشم زار و خونبارے (۴) خور تاباں سیه گشت ست از بدکاری و مردم زمیں طاعون ہمی آرد پئے تخویف و انذارے (۵) به تشویش قیامت ماند ایں تشویش گر بینی علاجے نیست بہر دفع آں جز حسن کردارے ماند (۶) نشاید تافتن سرزاں جناب عزت و غیرت کہ گر خواہد کشد در یکد مے چوں کرم بیکارے (۷) من از همدردی است گفتم تو خود ہم فکر کن یاری خرد از بهر این روزست اے دانا و ہشیارے راق بہر خاکسار میرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب ۶ رفروری ۱۸۹۸ء تبلیغ رسالت جلد ہفتم صفحہ۲ تا ۷۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۱۸۲ تا ۱۸۷ مطبوعه بار دوم ) ا (النساء: ۱۴۸) ہے۔ترجمہ (۱) لوگو! بے نیاز اور قھار خدا سے ڈرو میں نہیں سمجھتا کہ متقی اور نیک آدمی کبھی نقصان اٹھاتا ہو۔(۲) مجھے یقین نہیں آتا کہ وہ شخص کبھی رسوا ہوا ہو جو اس یار سے ڈرتا ہے جو غفار و ستار ہے۔(۳) اگر وہ چیز جسے میں دیکھ رہا ہوں دوست بھی دیکھتے تو حصول دنیا سے رورو کر تو بہ کرتے۔(۴) لوگوں کی بدکاریوں سے چمکتا ہوا سورج بھی سیاہ ہو گیا اور زمین بھی ڈرانے کی خاطر طاعون لا رہی ہے (۵) یہ مصیبت قیامت کی مانند ہے اگر تو غور کرے اور اس کے دور کرنے کا علاج سوائے نیک اعمال کے اور ہے۔کچھ نہیں۔(۶) اس بارگاہ عالی سے سرکشی نہیں کرنی چاہیے اگر وہ چاہے تو ایک دم میں نکھے کیڑے کی طرح تجھے فنا کر دے۔(۷) میں نے ہمدردی سے یہ بات کہی ہے اب تو خود غور کر لے اسے سمجھ دار انسان عقل اسی دن کے لئے ہوا کرتی ہے۔