حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 45
حیات احمد ۴۵ جلد پنجم حصہ اوّل خواب میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات پر سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بدشکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔میرے پر یہ امر مشتبہ رہا کہ اُس نے یہ کہا آئندہ جاڑے میں یہ مرض بہت پھیلے گا ، یا یہ کہا کہ اس کے بعد جاڑے میں پھیلے گا، لیکن نہایت خوفناک نمونہ تھا جو میں نے دیکھا اور مجھے اس سے پہلے طاعون کے بارے میں الہام بھی ہوا اور وہ یہ ہے إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ * یعنی جب تک دلوں کی وباء معصیت دور نہ ہوتب تک ظاہری وباء بھی دور نہیں ہوگی۔اور درحقیقت دیکھا جاتا ہے کہ ملک میں بدکاری کثرت سے پھیل گئی ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت ٹھنڈی ہو کر ہوا و ہوس کا ایک طوفان برپا ہورہا ہے۔اکثر دلوں سے اللہ جل شانہ کا خوف اٹھ گیا ہے اور وباؤں کو ایک معمولی تکلیف سمجھا گیا ہے جو انسانی تدبیروں سے دور ہوسکتی ہے۔ہر ایک قسم کے گناہ بڑی دلیری سے ہورہے ہیں۔اور قوموں کا ہم ذکر نہیں کرتے وہ لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں اُن میں سے جو غریب اور مفلس ہیں اکثر ان میں سے چوری اور خیانت اور حرام خوری میں نہایت دلیر پائے جاتے ہیں۔جھوٹ بہت بولتے ہیں۔اور کئی قسم کے خسیس اور مکر وہ حرکات ان سے سرزد ہوتے ہیں اور وحشیوں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں۔نماز کا تو ذکر کیا کئی کئی دنوں تک منہ بھی نہیں دھوتے اور کپڑے بھی صاف نہیں کرتے اور جو لوگ امیر اور رئیس اور نواب یا بڑے بڑے تاجر اور زمیندار اور ٹھیکہ دار اور دولت مند ہیں وہ اکثر عیاشیوں میں مشغول ہیں اور شراب خوری اور زنا کاری اور بداخلاقی اور فضول خرچی ان کی عادت ہے اور صرف نام کے مسلمان ہیں فقره که إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ اب تک اس کے معنی میرے پر نہیں کھلے اور رویا عام وبا پر دلالت کرتی ہے مگر بطور تقدیر معلق۔منه