حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 44
حیات احمد ۴۴ جلد پنجم حصہ اول رعب سے کام لیا جائے ہدایتوں کے فوائد دلوں میں جمائے جائیں تا بد گمانیاں پیدا نہ ہوں اور مناسب ہے کہ بعض خوش اخلاق ڈاکٹر واعظوں کی طرح مرض پھیلنے سے پہلے دیہات اور شہروں کا دورہ کر کے گورنمنٹ کے مشفقانہ منشاء کو دلوں میں جما دیں تا اس نازک امر میں کوئی فتنہ پیدا نہ ہو۔واضح رہے کہ اس فرض کی اصل حقیقت ابھی تک کامل طور پر معلوم نہیں ہوئی اس لئے اس کی تدابیر اور معالجات میں ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ہوئی مجھے ایک روحانی طریق سے معلوم ہوا ہے کہ اس مرض اور مرض خارش کا مادہ ایک ہی ہے اور میں گمان کرتا ہوں غالباً یہ بات صحیح ہوگی۔کیونکہ یہ بات صحیح ہے کہ مرض جرب یعنی خارش میں ایسی دوا ئیں مفید پڑتی ہیں جن میں کچھ پارہ کا جزو ہو یا گندھک کی آمیزش ہو اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس قسم کی دوائیں اس مرض کے لئے بھی مفید ہو سکیں۔اور جب کہ دونوں مرضوں کا مادہ ایک ہے تو کچھ تعجب نہیں کہ خارش کے پیدا ہو جانے سے اس مرض میں کمی پیدا ہو جائے۔یہ روحانی قواعد کا ایک راز ہے جس سے میں نے فائدہ اٹھایا ہے۔اگر تجربہ کرنے والے اس امر کی طرف توجہ کریں اور ٹیکہ لگانے والوں کی طرح بطور حفظ ما تقدم ایسے ملک کے لوگوں میں جو خطرہ طاعون میں ہوں خارش کی مرض پھیلا دیں تو میرے گمان میں ہے کہ وہ مادہ اس راہ سے تحلیل پا جائے اور طاعون سے امن رہے۔مگر حکومت اور ڈاکٹروں کی توجہ بھی خدا تعالیٰ کے ارادے پر موقوف ہے۔میں نے محض ہمدردی کی راہ سے اس امر کو لکھ دیا ہے کیونکہ میرے دل میں یہ خیال ایسے زور کے ساتھ پیدا ہوا جس کو میں روک نہیں سکا۔اور ایک اور ضروری امر ہے جس کے لکھنے پر میرے جوش ہمدردی نے مجھے آمادہ کیا ہے اور میں خوب جانتا ہوں کہ جولوگ روحانیت سے بے بہرہ ہیں اس کو ہنسی اور ٹھٹھے سے دیکھیں گے۔مگر میرا فرض ہے کہ میں اس کو نوع انسان کی ہمدردی کے لئے ظاہر کروں اور وہ یہ ہے کہ آج جو 4 فروری ۱۸۹۸ء روز یکشنبہ ہے۔میں نے