حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 43 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 43

حیات احمد ۴۳ جلد پنجم حصہ اول میں رکھا جائے جو اس شہر یا گاؤں کے بیماروں کے لئے گورنمنٹ کی طرف سے مقرر ہو۔اور اگر کوئی بچہ بھی ہو تو اس سے بھی یہی معاملہ کیا جائے اور باقی گھر والے بھی کسی ہوا دار میدان میں چھپروں میں رکھے جائیں۔لیکن گورنمنٹ نے یہ ہدایت بھی تو شائع کی ہے کہ اگر اس بیمار کے تعہد کے لئے ایک دو قریبی اُس کے اُسی مکان میں رہنا چاہیں تو وہ رہ سکتے ہیں۔پس اس سے زیادہ گورنمنٹ اور کیا تدبیر کر سکتی تھی کہ چند آدمیوں کو ساتھ رہنے کی اجازت بھی دے دے۔اور اگر یہ شکایت ہو کہ کیوں اُس گھر سے نکالا جاتا ہے اور باہر جنگل میں رکھا جاتا ہے تو یہ احمقانہ شکوہ ہے۔میں یقیناً اس بات کو سمجھتا ہوں کہ اگر گورنمنٹ ایسے خطرناک امراض میں مداخلت بھی نہ کرے تو خود ہر ایک انسان کا اپنا وہم وہی کام اس سے کرائے گا جس کام کو گورنمنٹ نے اپنے ذمہ لیا ہے۔مثلاً ایک گھر میں جب طاعون سے مرنا شروع ہو تو دو تین موتوں کے بعد گھر والوں کو ضرور فکر پڑے گا کہ اس منحوس گھر سے جلد نکلنا چاہیے۔اور پھر فرض کرو کہ وہ اس گھر سے نکل کر محلہ کے کسی اور گھر میں آباد ہوں گے اور پھر اس میں بھی یہی آفت دیکھیں گے تب ناچار اُن کو اُس شہر سے علیحدہ ہونا پڑے گا۔مگر یہ تو شرعاً بھی منع ہے کہ دبا کے شہر کا آدمی کسی دوسرے شہر میں جا کر آباد ہو یا بہ تبدیل الفاظ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کا قانون بھی کسی دوسرے شہر میں جانے سے روکتا ہے تو اس صورت میں بجز اس تدبیر کے جو گورنمنٹ نے پیش کی ہے کہ اسی شہر کے کسی میدان میں وہ لوگ رکھے جائیں اور کون سی نئی اور عمدہ تدبیر ہے جو ہم نعوذ باللہ اس خوفناک وقت میں اپنی آزادگی کی حالت میں اختیار کر سکتے ہیں؟ پس نہایت افسوس ہے کہ نیکی کے عوض بدی کی جاتی ہے اور ناحق گورنمنٹ کی ہدایتوں کو بدگمانی سے دیکھا جاتا ہے۔ہاں یہ ہم کہتے ہیں کہ ایسے وقت میں ڈاکٹروں اور دوسرے افسروں کو جوان خدمات پر مامور ہوں نہایت درجہ کے اخلاق سے کام لینا چاہیے اور ایسی حکمت عملی ہو کہ پردہ داری وغیرہ امور کے بارے میں کوئی شکایت بھی نہ ہو۔اور ہدایتوں پر عمل بھی ہو جائے اور مناسب ہوگا کہ بجائے اس کے کہ حکومت اور