حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 478 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 478

حیات احمد ۴۷۸ جلد پنجم حصہ اوّل پہلے تو وہ کچھ مالی نقصان پہنچاتے اور ذہنی اذیت دیتے اب انہوں نے ایک نئے فتنہ کی بنیاد رکھی منصوبہ یہ تھا کہ دیوار کے گرانے پر جنگ ہو جائے گی مگر ان کے منصوبے کو حضرت کی تعلیم نے خاک میں ملا دیا حضرت کے ارشاد کے موافق جماعت نے صبر کا مظاہرہ کیا۔اہنسا کا سبق گاندھی جی نے تو بہت بعد دیا یہ سبق تو ابتدائے اسلام کے ساتھ دنیا کو دیا گیا تھا۔اور اس صدی میں اس کا معلم اوّل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھے۔حکومت مقامی سے احتجاج مشورہ کے بعد قرار پایا کہ ایک وفد صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے پاس بھیجا جاوے اور ان کو موجودہ حالت سے آگاہ کیا جاوے اتفاق سے صاحب ڈپٹی کمشنر اور کپتان پولیس سر جو وال کی کوٹھی نہر پر بتقریب دورہ آئے ہوئے تھے اس لئے سلسلہ کے بزرگوں کا ایک وفد جس میں مقامی اور باہر کے آئے ہوئے مہمان بھی تھے حضرت حکیم فضل الدین کی قیادت میں روانہ کیا اور راقم الحروف کو معاملہ پیش کرنے کا ارشاد فرمایا چنانچہ یہ وفد جب سر جو وال پہنچاتو کوٹھی پہنچا تو کوٹھی سے باہر میدان میں لوگوں کے مجمع کی طرف سے جارہے تھے، ہم آگے بڑھے اور میں نے کہا کہ ہمیں کچھ عرض کرنا ہے مگرا فروختہ ہو گیا اور غصہ کا اظہار کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو پہلے سے اطلاع تھی۔اور اس طرح پر وہ اس سازش میں شریک تھا۔میں نے ہر چند توجہ دلانی چاہی مگر وہ مشتعل ہوتا گیا چنانچہ ہم واپس آنے پر مجبور ہو گئے۔مکرم چودھری حاکم علی صاحب نے اس واقعہ کا بیان اس طرح پر کیا جو سیرت المہدی میں درج ہے۔" ” جب مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین مسجد مبارک کا راستہ دیوار کھینچ کر بند کرنے لگے تو حضرت صاحب نے چند آدمیوں کو جن میں میں بھی تھا فرمایا کہ ان کے پاس جاؤ اور بڑی نرمی سے سمجھاؤ کہ یہ راستہ بند نہ کریں اس سے میرے مہمانوں کو بہت تکلیف ہوگی اور اگر چاہیں تو میری کوئی اور جگہ دیکھ کر بیشک قبضہ کر لیں اور حضرت