حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 32
حیات احمد جلد پنجم حصہ اول گے۔کیوں کہ قانون خدا ازل سے یہی مقدر ہو چکا ہے کہ کتب اللهُ لَاغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِى اور خدا سے بڑھ کر اور کون اصدق اور کس کا قول اقوامی ہوسکتا ہے۔چنانچہ اس فرمان خداوندی کی تائید و تصدیق کی بالکل تازہ مثال زندہ کرامات اور چلتی پھرتی تصویر جو واقعہ مندرجہ صدر میں صاف اور سامنے کھڑی نظر آرہی ہے خود مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا وجود ہے جس نے اپنے علم تیرہ، زہد خشک اور جاہ زوال پذیر کے گھمنڈ پر تعلی کی اور بڑا بول بول کر کہا کہ میں نے ہی اٹھایا اور اب میں ہی گراؤں گا خدا کے مقدس و محبوب کو گرانے والا کیسا گرا !! کتنی پلٹیاں کھا ئیں !! اور کس طرح چاروں شانے چت گرا؟ إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ إِهَانَتَكَ نوٹ۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی اپنی خاندانی عظمت کی وجہ سے اپنی قوم کے ایک ممتاز نوجوان تھے۔مگر انہوں نے حق کے لئے خاندانی عظمت اور شرف کو ٹھکرا دیا۔پنڈت رام بھیجدت ان کو واپس لینے کی حسرت لے کر چلے گئے اور حضرت قادیانی کو اللہ تعالیٰ نے ہر طرح سے نوازا اور انہیں اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اَنفُكُمْ نے کا شرف بخشا جس پر ہزاروں خاندانی عزتیں قربان کی جاسکتی ہیں۔(عرفانی الاسدی) ۱۸۹۸ء کے حالات اور واقعات سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تاریخ اپنے اندر ایک عجیب ندرت رکھتی ہے کہ اس کا ہر دن مختلف قسم کے ابتلاؤں کو لے کر آتا ہے سطحی نظر کا انسان ان واقعات کو دیکھ کر کہہ سکتا ہے کہ اس سلسلہ کے ختم ہونے کا وقت آچکا مگر با وجود مشکلات اور ابتلاؤں کے ہجوم کے ہر نیا دن ایک نئی نصرت کا ہوتا ہے۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَانِ کا نظارہ سلسلہ عالیہ کی تاریخ میں نظر آتا ہے ۱۸۹۸ء کا آغاز اللہ تعالیٰ کے زور آور حملوں سے شروع ہوا جس کی بشارت عرصہ دراز پہلے اس طرح پر دی تھی۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے المجادله : ۲۲ الحجرات : ۱۴