حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 458
حیات احمد ۴۵۸ جلد پنجم حصہ اول فقرہ وحی الہی کا زبان پر جاری ہوتا تھا یہاں تک کہ کل وحی الہی نازل ہو کر سید فضل شاہ صاحب لاہوری کی قلم سے لکھی گئی اور اس میں تفہیم ہوئی کہ یہ اس دیوار کے متعلق ہے جو امام الدین نے کھینچی ہے جس کا مقدمہ عدالت میں دائر ہے اور یہ تفہیم ہوئی کہ انجام کار اس مقدمہ میں فتح ہوگی چنانچہ میں نے اپنی ایک کثیر جماعت کو یہ وحی الہی سنادی اور اس کے معنی اور شانِ نزول سے اطلاع دے دی ہے۔اور اخبار الحکم میں چھپوا دیا اور سب کو کہہ دیا کہ اگر چہ مقدمہ اب خطر ناک اور صورت نومیدی کی ہے مگر آخر خدا تعالیٰ کچھ ایسے اسباب پیدا کر دے گا جس میں ہماری فتح ہوگی کیونکہ وحی الہی کا خلاصہ مضمون یہی تھا۔اب ہم اس وحی الہی کو عہ ترجمہ ذیل میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے۔الرَّحِی تَدُورُ وَيَنْزِلُ الْقَضَاءُ۔إِنَّ فَضْلَ اللَّهِ لَاتٍ وَلَيْسَ لَا حَدِانْ يَّرُدَّ مَا أَتَى قُلْ إِى وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقِّ لَا يَتَبَدَّلُ وَلَا يَخْفَى وَيَنْزِلُ مَا تَعْجَبُ مِنْهُ وَحْرٌ مِّنْ رَّبِّ السَّمَوَاتِ الْعُلَى إِنَّ رَبِّي لَا يَضِلُّ وَلَا يَنْسى ظَفَرٌ مُّبِينٌ۔وَإِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى اَنْتَ مَعِي وَأَنَا مَعَكَ۔قُلِ اللَّهُ ثُمَّ ذَرُهُ فِي غَيْهِ يَتَمَطَّى۔إِنَّهُ مَعَكَ وَإِنَّهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَمَا اَخْفى۔لَا إِله إِلَّا هُوَ يَعْلَمُ كُلَّ شَيْءٍ وَيَرَى۔إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ يُحْسِنُونَ الْحُسْنَى إِنَّا اَرْسَلْنَا أَحْمَدَ إِلى قَوْمِهِ فَأَعْرَضُوا وَقَالُوا كَذَّابٌ اَشِرٌّ۔وَجَعَلُوا يَشْهَدُونَ عَلَيْهِ وَ يَسِيلُونَ إِلَيْهِ كَمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ۔إِنَّ حَبِّى قَرِيبٌ إِنَّهُ قَرِيبٌ مُّسْتَتِرٌ ترجمہ۔چکی پھرے گی اور قضا و قدر نازل ہوگی یعنی مقدمہ کی صورت بدل جائے گی جیسا کہ چکی جب گردش کرتی ہے تو وہ حصہ چکی کا جو سامنے ہوتا ہے باعث گردش کے پردہ میں آجاتا ہے اور وہ حصہ جو پردہ میں ہوتا ہے وہ سامنے آجاتا ہے۔یہ خدا کا لے مولوی عبد الکریم صاحب کے 4 جنوری ۱۹۰۰ ء کے خط میں اِنَّ الرَّحَى تَدُورُ وَيَنْزِلُ الْقَضَاءُ (مرتب) سے عجیب بات ہے کہ اس الہام میں بشارت فضل کے لفظ سے شروع ہوتی ہے اور جس کے ہاتھ سے بر وقت نزول یہ وحی قلمبند کرائی گئی ہے اس کا نام بھی فضل ہے۔(حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۶۷ حاشیہ۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۸)