حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 457
حیات احمد ۴۵۷ جلد پنجم حصہ اول مرلیا جائے لہذا میں نے مجبوراً اس تجویز کو پسند کر لیا تھا۔مگر وہ ایسا انسان نہیں تھا جو راضی ہوتا۔اس کو مجھ سے بلکہ دین اسلام سے ذاتی بغض تھا اور اُس کو پتہ لگ گیا تھا کہ مقدمہ چلانے کا ان پر قطعاً دروازہ بند ہے لہذاوہ اپنی شوخی میں اور بھی بڑھ گیا آخر ہم نے اس بات کو خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیا مگر جہاں تک ہم نے اور ہمارے وکیل نے سوچا کوئی بھی صورت کا میابی کی نہیں تھی کیونکہ پرانی مثل سے امام الدین کا ہی قبضہ ثابت ہوتا تھا۔اور امام الدین کی یہاں تک بدنیت تھی کہ ہمارے گھر کے آگے جو صحن تھا جس میں آکر ہماری جماعت کے یکے ٹھہرتے تھے وہاں ہر وقت مزاحمت کرتا اور گالیاں نکالتا تھا اور نہ صرف اسی قدر بلکہ اُس نے یہ بھی ارادہ کیا تھا کہ ہمارا مقدمہ خارج ہونے کے بعد ایک لمبی دیوار ہمارے گھر کے دروازوں کے آگے کھینچ دے تا ہم قیدیوں کی طرح محاصرہ میں آجائیں اور گھر سے باہر نکل نہ سکیں اور نہ باہر جاسکیں۔یہ دن بڑی تشویش کے دن تھے یہاں تک کہ ہم ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ لے کے مصداق ہو گئے اور بیٹھے بیٹھے ایک مصیبت پیش آگئی اس لئے جناب الہی میں دعا کی گئی اور اس سے مدد مانگی گئی۔تب بعد دعا مندرجہ ذیل الہام ہوا۔اور یہ الہام علیحدہ علیحدہ وقت کے نہیں بلکہ ایک ہی دفعہ ایک ہی وقت میں ہوا مجھے یاد ہے کہ اس وقت سید فضل شاہ صاحب لاہوری برادر سید ناصر شاہ صاحب اور سیئر متعین بارہ مولا کشمیر میرے پیر دبا رہا تھا اور دو پہر کا وقت تھا کہ یہ سلسلہ الہام دیوار کے مقدمہ کی نسبت شروع ہوا۔میں نے سید صاحب کو کہا کہ یہ دیوار کے مقدمہ کی نسبت الہام ہے۔آپ جیسا جیسا یہ الہام ہوتا جائے لکھتے جائیں چنانچہ انہوں نے قلم دوات اور کاغذ لے لیا پس ایسا ہوا کہ ہر ایک دفعه غنودگی کی حالت طاری ہو کر ایک ایک فقرہ وحی الہی کا جیسا کہ سنت اللہ ہے زبان پر نازل ہوتا تھا اور جب ایک فقرہ ختم ہو جاتا اور لکھا جاتا تھا تو پھر غنودگی آتی تھی اور دوسرا لى التوبة : ١١٨