حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 447
حیات احمد ۴۴۷ جلد پنجم حصہ اول نازل ہو گا اس سے یہی غرض تھی کہ مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے کہ اس وقت باعث دنیا کے باہمی میل جول کے اور نیز راہوں کے کھلنے اور سہولت ملاقات کی وجہ سے تبلیغ احکام اور دینی روشنی پہنچانا اور ندا کرنا ایسا سہل ہوگا کہ گویا یہ شخص منارہ پر کھڑا ہے۔یہ اشارہ ریل اور تار اور اگن بوٹ اور انتظام ڈاک کی طرف تھا جس نے تمام دنیا کو ایک شہر کی مانند کر دیا۔غرض مسیح کے زمانہ کے لئے منارہ کے لفظ میں یہ اشارہ ہے کہ اس کی روشنی اور آواز جلد تر دنیا میں پھیلے گی اور یہ باتیں کسی اور نبی کو میسر نہیں آئیں۔اور انجیل میں لکھا ہے کہ مسیح کا آنا ایسے زمانہ میں ہوگا جیسا کہ بجلی آسمان کے ایک کنارہ میں چمک کر تمام کناروں کو ایک دم میں روشن کر دیتی ہے یہ بھی اسی امر کی طرف اشارہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ چونکہ مسیح تمام دنیا کو روشنی پہنچانے آیا ہے اس لئے اس کو پہلے سے یہ سب سامان دیئے گئے۔وہ خون بہانے کے لئے نہیں بلکہ تمام دنیا کے لئے صلح کاری کا پیغام لایا ہے۔اب کیوں انسانوں کے خون کئے جائیں۔اگر کوئی سچ کا طالب ہے تو وہ خدا کے نشان دیکھے جو صد با ظہور میں آئے اور آرہے ہیں اور اگر خدا کا طالب نہیں تو اس کو چھوڑ دو اور اس کے قتل کی فکر میں مت ہو کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اب وہ آخری دن نزدیک ہے جس سے تمام نبی جو دنیا میں آئے ڈراتے رہے۔(ضمیمہ خطبہ الہامیہ صفحہ (تات۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۵ تا ۱۸۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۳۹۹ تا ۴۰۱ طبع باردوم) اس اشتہار میں دشقی حدیث پر بھی آپ نے بحث فرمائی اور اسی اشتہار میں آپ نے اشاعت اسلام کے لئے تلوار کے جہاد کے خلاف اعلان فرمایا اور اس طرح پر گویا حقیقت جہاد کو واضح کیا چنانچہ فرمایا۔دو جس خدا نے منارہ کا حکم دیا ہے اس نے اس بات کی طرف اشارہ کر دیا ہے کہ اسلام کی مردہ حالت میں اسی جگہ سے زندگی کی روح پھونکی جائے گی اور یہ فتح نمایاں کا میدان ہوگا۔مگر یہ فتح ان ہتھیاروں کے ساتھ نہیں ہوگی جو انسان بناتے ہیں بلکہ آسمانی