حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 444 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 444

حیات احمد جلد پنجم حصہ اول منارة المسیح کی تعمیر حضرت اقدس کو ایک زمانہ دراز پیشتر ایک الہام ہوا تھا ” بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد۔اس کے علاوہ حضرت نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث میں (جو صحیح مسلم میں ہے ) یہ بتایا گیا تھا کہ مسیح موعود کا نزول دمشق کے مشرقی منارہ پر ہوگا۔اس کی حقیقت تو حضرت اقدس نے اپنی تصنیف ازالہ اوہام میں شرح وبسط سے کی ہے اور بتایا ہے کہ اس سے مراد موجودہ دمشق نہیں بلکہ استعارہ کے طور پر اُس مقام کو دمشق کہا گیا ہے جہاں آنے والے ابن مریم کا ظہور ہوگا۔اور منارہ کے متعلق آپ نے یہ فرمایا کہ مادی طور پر بھی منارہ بڑی مسجد ( مسجد اقصی ) میں تعمیر کیا جاوے اس مقصد کے لئے آپ نے ۲۸ مئی ۱۹۰۰ءکو ایک مبسوط اشتہار شائع کیا جو اعلیٰ درجہ کے حقائق و معارف پر مشتمل ہے اس میں اُن اغراض و مقاصد کو بھی آپ نے بیان فرمایا جو اس کی تعمیر میں زیر نظر ہیں چنانچہ آپ نے اس تحریک میں فرمایا۔” خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے قادیاں کی مسجد جو میرے والد صاحب مرحوم نے مختصر طور پر دو بازاروں کے وسط میں ایک اونچی زمین پر بنائی تھی اب شوکت اسلام کے لئے بہت وسیع کی گئی اور بعض حصہ عمارات کے اور بھی بنائے گئے ہیں۔لہذا اب یہ مسجد اور رنگ پکڑ گئی ہے۔یعنی پہلے اس مسجد کی وسعت صرف اس قدر تھی کہ بمشکل دو سو آدمی اس میں نماز پڑھ سکتا تھا لیکن اب دو ہزار کے قریب اس میں نماز پڑھ سکتا ہے اور غالباً آئندہ اور بھی یہ مسجد وسیع ہو جائے گی۔میرے دعوی کی ابتدائی حالت میں اس مسجد میں جمعہ کی نماز کے لئے زیادہ سے زیادہ پندرہ یا بیس آدمی جمع ہوا کرتے تھے لیکن اب خدا تعالی کا یہ فضل ہے کہ تین سو یا چارسونمازی ایک معمولی اندازہ ہے اور کبھی سات سویا آٹھ سو تک بھی نمازیوں کی نوبت پہنچ جاتی ہے لوگ دور دور سے نماز پڑھنے کے لئے آتے ہیں۔یہ عجیب خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ پنجاب اور ہندوستان کے مولویوں نے بہت