حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 443 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 443

حیات احمد ۴۴۳ جلد پنجم حصہ اول جاتے رہیں گے۔اور یہ امر موجب رجوع خلائق ہوگا جو اس زمانہ کے ایسے پیر صاحبوں کا عین مد عا ہوا کرتا ہے اور اگر پیر صاحب مغلوب ہوئے تو تسلی رکھیں کہ ہم ان سے کچھ نہیں مانگتے اور نہ اُن کو بیعت کے لئے مجبور کرتے ہیں۔صرف ہمیں یہ منظور ہے کہ پیر صاحب کے پوشیدہ جو ہر اور قرآن دانی کے کمالات جس کے بھروسہ پر انہوں نے میری رڈ میں کتاب تالیف کی لوگوں پر ظاہر ہو جائیں اور شاید زلیخا کی طرح ان کے منہ سے الْنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ نکل آئے۔اور ان کے نادان دوست اخبار نویسوں کو بھی پتہ لگے کہ پیر صاحب کس سرمایہ کے آدمی ہیں۔مگر پیر صاحب دلگیر نہ ہوں ہم ان کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ بے شک اپنی مدد کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبدالجبار غزنوی اور محمد حسین بھیں وغیرہ کو بلا لیں بلکہ اختیار رکھتے ہیں کہ کچھ طمع دے کر دو چار عرب کے ادیب بھی طلب کر لیں۔فریقین کی تفسیر چارجز سے کم نہیں ہونی چاہیے اور اگر میعاد مجوزہ تک یعنی ۱۵/ دسمبر ۱۹۰۰ ء سے ۲۵ فروری ۱۹۰۱ء تک جوستر دن ہیں فریقین میں سے کوئی فریق تفسیر فاتحہ چھاپ کر شائع نہ کرے اور یہ دن گزر جائیں تو وہ جھوٹا سمجھا جائے گا۔اور اس کے کاذب ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہے گی۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى grins مرزا غلام احمد از قادیان ۱۵ دسمبر ۱۹۰۰ء ( مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۴ ۴۷ تا ۴۷۷ طبع بار دوم ) نوٹ۔جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ پیر صاحب سے یہ علمی اور روحانی اور بالآخر قانونی مقابلہ ۱۹۰۳ء تک جاتا ہے اس کے باقی حالات آئندہ جلد میں آئیں گے۔( إِنْشَاءَ اللهُ الْعَزِیز۔عرفانی) ا یوسف: ۵۲