حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 30 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 30

حیات احمد جلد پنجم حصہ اول منتقمانه رنگ و طریق سے الامان الحفیظ۔کہاں ادّعاء دین و دیانت اور تقوی وصیانت اور کہاں ایسے مکروہ اور سنگِ انسانیت افعال به بین تفاوت را از کجاست تا بکجا مسل مکمل ہو کر فتوائے موت رسوا کن ضمانت یا کسی اور سزائے سخت کا حکم باقی رہ گیا تھا کہ ارداہ الہی اور منشاء ایزدی غالب ہوا۔نیک دل پاک فطرت اور عادل حاکم کے دل کو تسلی نہ ہوئی یہ پاکباز انسان ، اور ایسا نا پاک الزام کرسی عدالت کے صدر کی فطرت نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔دوبارہ تحقیقات کا انتظام کیا گیا مفروضہ اور بھیجے گئے قاتل کو پوادر سے لے کر معتمد افسران پولیس کے سپر د کر دیا گیا۔اور اس طرح اس نے پادریوں کے دباؤ اور طمع وخوف سے آزاد ہوکر سچا بیان اور اظہار حق کر دیا۔حالات نے پلٹا کھایا اور جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا کی صداقت ظاہر ہوگئی۔وہ صاعقہ ستارہ بن گئی مومن امتحان میں کامیاب ہوئے ایمان اور اخلاص میں ان کو ترقی ملی جو مختلف مقامات سے آئے۔اور اپنی محبت و وفا ایمان واخلاص کی قربانیاں اپنے آقا کے حضور پیش کرتے اور خدمت گزارتے رہے۔باعزت بریت ہوئی دشمن روسیاہ ذلیل وخوار ہمیشہ کے لئے زیر الزام اور زیر ملامت ہوئے اور جس طرح خدائے برتر و بالا نے قبل از وقت اپنے بندے پر اپنا کلام نازل فرمایا تھا۔بعنیہ اسی طرح رونما و ظاہر ہوا۔خدا کے علم تام اور قدرت کا ملہ کے کرشمے اور عجائب در عجائب نشان و کام دیکھنے میں آئے تہدید حکام کا معاملہ بھی پورا ہوا جو انتظامی رنگ میں صاحب ڈپٹی کمشنر نے نوٹس کی شکل میں حضور کو دیا مگر کلام الہی الا بر آؤ بھی اپنی پوری شان اور شوکت میں ظاہر ہوا خداوند خدا اپنی قدرتوں اور فعلی شہادتوں اور اپنے کاموں ہی سے اپنی ذات کا ثبوت اور ہستی کے دلائل دیا کرتا اور چہرہ نمائی فرمایا کرتا ہے جو صحبت انبیاء صادقین وصالحین کے سوا ممکن نہیں ہمیں بھی جو کچھ میسر آیا ، نصیب ہوا، یا عطا کیا گیا خدا کے مقدس جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الانبیاء ہی کے قدموں کے طفیل - صحبت کی برکت۔انفاس قدسیہ اور تو جہات کریمانہ ہی کے صدقہ سے ملا اور فِي زَمَانِنَا خدا کو پانے اور اس کی رضا کے حصول کی اگر کوئی راہ ہے تو صرف یہی ایک سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کھڑکی کھلی ہے نورمحمدی کے ظہور اور رحمت الہی میں داخلہ