حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 442
حیات احمد ۴۴۲ جلد پنجم حصہ اول آنے پر بھی کچھ بہت زمانہ نہیں گزرا۔اس لئے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ میں اسی جگہ بجائے خود سورۃ فاتحہ کی عربی فصیح میں تفسیر لکھ کر اس سے اپنے دعوئی کو ثابت کروں اور اس کے متعلق معارف اور حقائق سورۃ ممدوحہ کے ابھی بیان کروں اور حضرت پیر صاحب میرے مخالف آسمان سے آنے والے مسیح اور خونی مہدی کا ثبوت اس سے ثابت کریں اور جس طرح چاہیں سورۃ فاتحہ سے استنباط کر کے میرے مخالف عربی فصیح بلیغ میں براہین قاطعہ اور معارف ساطعہ تحریر فرما دیں۔یہ دونوں کتابیں دسمبر ۱۹۰۰ء کی پندرہ تاریخ سے ستر دن تک چھپ کر شائع ہو جانی چاہیے۔تب اہل علم لوگ خود مقابلہ اور موازنہ کر لیں گے۔اور اگر اہل علم میں سے تین کس جوادیب اور اہلِ زبان ہوں اور فریقین سے کچھ تعلق نہ رکھتے ہوں قسم کھا کر کہہ دیں کہ پیر صاحب کی کتاب کیا بلاغت اور فصاحت کی رو سے اور کیا معارف قرآنی کی رو سے فائق ہے تو میں عہد صحیح شرعی کرتا ہوں کہ پانسو روپیہ نفقد بلا توقف پیر صاحب کی نذر کروں گا۔اور اس صورت میں اس کوفت کا بھی تدارک ہو جائے گا جو پیر صاحب سے تعلق رکھنے والے ہر روز بیان کر کے روتے ہیں جو نا حق پیر صاحب کو لاہور آنے کی تکلیف دی گئی۔اور یہ تجویز پیر صاحب کے لئے بھی سراسر بہتر ہے کیونکہ پیر صاحب کو شاید معلوم ہو یا نہ ہو کہ عقلمند لوگ ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ پیر صاحب کو علم قرآن میں کچھ دخل ہے یا وہ عربی فصیح بلیغ کی ایک سطر بھی لکھ سکتے ہیں بلکہ ہمیں ان کے خاص دوستوں سے یہ روایت پہنچی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ بہت خیر ہوئی کہ پیر صاحب کے بالمقابل تفسیر عربی لکھنے کا اتفاق پیش نہیں آیا ورنہ ان کے تمام دوست ان کے طفیل سے شَاهَتِ الْوُجُوهُ سے ضرور حصہ لیتے۔سو اس میں کچھ شک نہیں کہ ان کے بعض دوست جن کے دلوں میں یہ خیالات ہیں جب پیر صاحب کی عربی تفسیر مزین به بلاغت و فصاحت دیکھ لیں گے تو اُن کے پوشیدہ شبہات جو پیر صاحب کی نسبت رکھتے ہیں